خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 294 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 294

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۹۴ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطا۔وہ ہر لحاظ سے انڈی پنڈنٹ ہیں۔مستقل حیثیت رکھتے ہیں کھانا بھی انہوں نے خود پکانا ہے ٹھہرنے کا انتظام بھی خود کرنا ہے۔اس کام کے لئے بڑی ہمت کرنی پڑتی ہے دوست مسجد میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ بڑی ہمت بڑی قربانی اور بڑے ہی اخلاص کا مظاہرہ ہے جو جماعت نے اس میدان میں کیا ہے۔لیکن اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ سات ہزار مخلصین 1 میدان میں آ سکتے تھے کچھ کمی رہ گئی ہے اور میں توقع رکھتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ آئندہ آپ سات ہزار سے زائد واقفین عارضی دیں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق بھی عطا کرے اور اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اس سے زیادہ اجر عطا کرے جتنا آپ کے وہم و گمان میں آسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ آپ کی کوششوں میں اس قدر برکت ڈالے کہ اپنے بھی اور غیر بھی اسے دیکھ کر خوش ہوں۔ایک چیز جو رہ گئی ہے ( شاید اس میں بھی کوئی حکمت ہو ) اور وہ نئی کتا بیں ہیں جو شائع ہوئی ہیں۔اس سال بہت سی نئی کتب شائع ہوئی ہیں۔میں ان سب کا اکٹھا اعلان کر دیتا ہوں۔ویسے تو کتابوں کے متعلق کچھ کہنا یاد نہیں رہا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس میں یہ بھی حکمت تھی کہ میں گلے پر زیادہ بوجھ نہیں ڈال سکتا بڑی تکلیف محسوس ہوتی ہے۔اگر اس میں زیادہ وقت لگ جاتا تو بعض تیں مجھے چھوڑنی پڑتیں اور کوفت الگ اٹھانی پڑتی ابھی کل کا مضمون بھی ہے۔دعا کی میں پھر تحریک کروں گا۔آج دس گیارہ بجے تک تو یہ حالت تھی کہ میرا خیال تھا کہ رمیں یہاں آ تو جاؤں گا مگر تقریر نہیں کر سکوں گا۔گلا بالکل بیٹھا ہوا تھا۔پھر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور وہ میرے لئے بھی حیرانگی کا موجب بنا کہ جس گلے سے آواز بھی نہیں نکلتی تھی یکدم وہ بیٹھنے والی کیفیت اس کی نہیں رہی۔بھاری آواز جو نزلہ میں ہو جاتی ہے وہ تو باقی ہے جیسا کہ میں نے بتایا کہ فلو کے آثار ظاہر ہو گئے ہیں۔پس دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ عموماً ان ساری ذمہ داریوں کو کما حقہ اور اچھے رنگ میں اور مقبول رنگ میں اٹھانے کی توفیق دے جو اس نے ان کمز ور کندھوں پر ڈالی ہیں خصوصاً ان مخصوص ذمہ داریوں کو نبھانے کی توفیق عطا کرے جو جلسہ سالانہ کے ان بابرکت دنوں سے تعلق رکھتی ہیں۔اللہ تعالیٰ مجھے تو توفیق دیتا ہے کہ میں جلسہ سے بھی پہلے آپ دوستوں کے لئے کثرت سے دعائیں شروع کر دیتا ہوں اور اپنی ذمہ داری سے مجبور ہو کر بھی مجھے اس کی طرف خاص توجہ پیدا