خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 284
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۸۴ ۲۷ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب نوٹ تفسیر صغیر کی طرح شائع ہو جائے گا۔قرآن کریم کے جو تراجم تیار ہو چکے ہیں لیکن بوجہ اس کے کہ ان پر ابھی نظر ثانی ہورہی ہے یا کچھ مالی تنگی ہے یا ذرائع کم ہیں چھپ نہیں سکے وہ یہ ہیں۔اسپنیش۔۲۔اٹالین -۳- روسی - ۴ - پرتگیزی - ۵۔چار افریقن زبانوں میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے۔ان میں سے بعض پر نظر ثانی ہو رہی ہے اور ان کی اشاعت کے ذرائع کا انتظام کیا جا رہا ہے۔آپ دعا کریں کہ یہ تراجم جلد شائع ہو جائیں نیز یہ دعا کریں کہ اگلے پچیس سال کے اندر اندر قرآن کریم کے تراجم ان زبانوں سے زیادہ زبانوں میں شائع ہو جائیں جن میں اس وقت تک بائبل یا کوئی اور کتاب چھپ چکی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عربی کتب کی اشاعت کی طرف بھی توجہ کی جارہی ہے۔میں نے ایک کمیٹی بنائی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کی اشاعت کی طرف خاص توجہ دے گی اور ان کے چھاپنے کا ہم انتظام کریں گے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے عربی بولنے والے ممالک اور عربی بولنے والی اقوام کی توجہ یکدم پچھلے سال احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی طرف ہوئی ہے اور یہ وقت ہے کہ ہم ان کے ہاتھ میں اپنے ہاتھ یا قلم سے لکھی ہوئی تحریر کی بجائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر یا کتاب رکھیں۔یہ چیزان پر بہت اثر کرے گی لیکن جس طرح ترقی یافتہ ممالک میں کتب کی طباعت ہوتی ہے یا جس قسم کے کاغذ پر وہ شائع کی جاتی ہیں اسی قسم کی طباعت ان کی کرانی پڑے گی اور اسی قسم کے کاغذ پر انہیں شائع کرنا پڑے گا۔جب تک وہ کتب بڑی خوش خط نہ ہوں گی اور جب تک ان میں اچھا کاغذ نہیں لگایا جائے گا وہ لوگ ان کی قدر نہیں کریں گے کیونکہ ابھی تک ان کی آنکھ دنیا کی آنکھ ہے اور وہ آنکھ نمائش کو دیکھتی ہے جب وہ احمدی ہو جائیں گے تو ان کی نظر بدل جائے گی اور وہ نمائش کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان قیمتی خزانوں کی قدر کرنے لگ جائیں گے۔آپ دیکھیں جیسا میرا اور آپ کا دل ہے اگر کسی پتہ پر لکھا ہوا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی ایسا مصرعہ یا فقرہ نظر آ جائے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں آپ نے لکھا ہے تو میں اور آپ اس کو سینہ سے لگالیں گے لیکن وہ لوگ بہر حال اس چیز سے ناواقف ہیں انسان ہیں وہ جس ظاہری رنگ میں کسی چیز کی قدر کر سکتے ہیں اسی رنگ میں وہ چیز ان کے سامنے رکھنی چاہئے۔دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ یہ کام