خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 18 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 18

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۸ ۲۰ دسمبر ۱۹۶۵ء۔دوسرے روز کا خطاب مربی ایسے شخص کو کہتے ہیں جو پوری طرح تعلیم حاصل کر کے تبلیغ و تربیت کے میدان میں اتر تا ہے۔اس کی تیاری کے لئے بڑا وقت درکار ہوتا ہے۔بڑی محنت درکار ہوتی ہے پھر اس کام کی اہمیت اور ضرورت کے مطابق مربیوں کو تیار کیا جا سکے لیکن جب ہماری جماعت نے اپنے بچے دین کی خدمت کے لئے وقف کرنے میں سستی دکھائی۔تو ہمارے امام نے ستاری سے کام لیتے ہوئے یہ تحریک شروع کر دی کہ مجھے مقامی تبلیغ کے لئے معلموں کی ضرورت ہے۔چنانچہ ایسے نو جوانوں کی ایک تعداد جن کی تعلیم صرف آٹھویں جماعت تک تھی۔آگے آگئی اور حضور نے انہیں چند ماہ دینی تعلیم اور تربیت دے کر ان سے تعلیم و تربیت کا کام لینا شروع کر دیا۔آپ۔سوچا کہ اگر جماعت دینی خدمت کے لئے مناسب آدمی پیش نہیں کرے گی اور اپنے بچوں کو بھی وقف نہیں کرے گی کہ انہیں ایک لمبا عرصہ تک تعلیم دلا کر اور تربیت دے کر اس سے مربی کا کام لیا جائے اور میں بھی کچھ نہیں کروں گا تو جماعت اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے آ جائے گی لیکن اگر میں جماعت کی سستی کو کسی اور طریق سے چھپادوں اور اس کی پردہ پوشی کروں تو اللہ تعالیٰ ستار ہے وہ بھی ستاری سے کام لیتے ہوئے پردہ پوشی کرے گا اور جماعت کو روحانی طور پر کوئی نقصان نہیں ہو گا۔چنانچہ آپ نے تربیت کی غرض سے ساٹھ ستر آدمی لے لئے۔پھر جب آپ نے محسوس کیا کہ اور آدمیوں کی ضرورت ہے اور جامعہ احمد یہ جماعت کی ضرورت کو پورا نہیں کر رہا۔تو آپ نے وقف جدید کا نظام جاری کر دیا۔اس نظام میں بھی کم تعلیم یافتہ افراد کو لے لیا جاتا ہے انہیں کچھ عرصہ تک تربیت دی جاتی ہے اور پھر انہیں کام پر لگا دیا جاتا ہے۔اس کے بعد وقتاً فوقتاً ریفریشر کورس جاری کر کے ان کو مزید تربیت دی جاتی ہے خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ لوگ بڑا ہی اچھا کام کر رہے ہیں۔ان میں سے اکثر چھوٹی عمر کے ہیں کچھ بڑی عمر کے بھی ہیں لیکن سب کے سب بظاہر کم تعلیم یافتہ ہیں باوجود اس کے انہوں نے جو کام کیا ہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اشاعت ہدایت کے لئے علم کی نسبت جذبہ کی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جن کے ذریعہ بہ نسبت ان مربیوں کے جنہوں نے باقاعدہ دین کی تعلیم حاصل کی ہے تعداد میں زیادہ لوگوں نے ہدایت پائی ہے اور اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے کہ اُسے ظاہری چیزوں کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ ہر چیز کا مالک ہے ہاں وہ دلوں کے تقوی کو دیکھتا ہے اس کی نظر دل کے