خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 248
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۴۸ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب کی حسین مناظر سے بھری پڑی ہیں۔وہی چیز اب ہم نے اپنے رب کے حضور پیش کرنی ہے۔ہمارے اوپر اس روح مسابقت کے نتیجہ میں یہ فرض بھی ہے کہ ہر شخص مقابلہ کے میدان میں آنے کے لئے تیار ہوں تبھی تو پتہ لگے گا کہ کون آگے نکلتا ہے کسی کو ہم نے پیچھے نہیں رہنے دینا۔ایک کم سے کم معیار پر ہر احمدی فرد اور ہر احمدی جماعت اور ہر احمدی ملک کو لے کر آنا ہے اور پھر ان کا آپس میں مقابلہ کروانا ہے اور آگے بڑھنا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس قدر عظیم صفات پیدا کرنے کی تعلیم ہم تمہیں دے رہے ہیں تو قرآن کریم کو تم صرف اپنا حصہ نہ سمجھنا بلکہ قرآن کریم تمام عالمین کے لئے ذکر۔ان کی بزرگی کے قائم کرنے اور بزرگی کے بڑھانے کا ذریعہ بنایا گیا ہے اور اس خصوصیت کے ساتھ تمام بنی نوع انسان کی طرف یہ بھیجا گیا ہے۔اس لئے تم قرآن کریم کو ہاتھ میں لے کر ساری دنیا میں پھیل جاؤ۔جماعت احمدیہ کے اندر بھی یہ جذبہ پیدا ہونا چاہئے یہ صفت ہونی چاہئے قرآن پکڑا یا اور کہا کہ اس کی جو نوا ہی ہیں۔تم اس سے بچتے رہو۔قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نے ایک نور بنایا ہے۔اس کے ماننے والوں کے دلوں میں لمبے اور دور دراز کے سفروں کا شوق پیدا کیا۔اس جذبہ کے ماتحت کہ ہم نے قرآن کریم کی حسین تعلیم کو ساری دنیا میں پھیلا کے دم لینا ہے اور اس مہم میں کامیاب ہونے کے ہمیں طریق بتائے اور وہ یہ ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ادْعُ إِلى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ (النحل : ١٦) کہ اللہ تعالیٰ کے راستہ کی طرف اس صراط کی طرف جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کہا گیا کہ یہ صراطی مستیقما ہے۔اس صراط مستقیم کی طرف جس کے حاصل کرنے اور جس پر قائم رہنے کی ہمیں دعا سکھلائی گئی۔اھدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔اس راستہ کی طرف تم ساری دنیا کو بلاؤ قرآن کریم کو اپنے دونوں ہاتھوں سے مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور دنیا کے ملک ملک میں پھیل جاؤ اور وہاں تبلیغ قرآن کرو اور تبلیغ اسلام کرو۔دو دلائل تمہیں دئے گئے ہیں یا دو طاقتیں تمہیں عطا کی گئی ہیں۔ایک حکمت اور موعظہ حسنہ کی یعنی اعلیٰ ترین دلائل اور ان دلائل کو