خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 240 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 240

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۴۰ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب ہیں کسی کام کو کرنے میں پوری طاقت خرچ کر دینا ( یہ معنی ہیں اس کے ) اور اپنی طاقت کے مطابق اپنی استعداد کے مطابق پورا زور لگا دینا اور یہ مجاہدہ ہے تو جس کام کو بھی کریں جتنی طاقت اور قوت ہمیں اللہ تعالیٰ نے دی ہے وہ ہم خرچ کریں پھر اپنے خدا سے کہیں کہ اے خدا ہم نے ایک عہد تو تجھ سے کیا تھا اور یہ کہ تیرے اسلام کو پھیلانے کے لئے ہم اپنی طاقت خرچ کر دیں گے۔ہم نے اپنا عہد پورا کر دیا ہے جو تو نے بھی ہم سے عہد کیا تھا کہ جب تم اپنی استعداد کے مطابق اپنی ساری قوتوں کو خرچ کرو گے تو میں اپنے فضل سے تمہیں کامیاب کروں گا۔اب تو اپنے عہد کو پورا کر اور ہمیں کامیابی عطا کر لیکن اگر ہم اپنے عہد کو پورا نہ کریں اور ہمارے اندر روح مجاہدہ نہ ہواو رصفتِ جہاد نہ پائی جائے تو ہم کس طرح اپنے خدا کو کہ سکتے ہیں کہ اے خدا ہم نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا تو اپنا وعدہ پورا کر دے۔یہ تو غیر معقول بات ہے تو ہمیں اپنا عہد بہر حال پورا کرنا ہے۔ہمارے اندر اس مجاہدہ اور اس جہاد کی صفت ہونی چاہئے کہ جو کام کرنا ہے اس کو جہاں تک ہماری طاقت اور استعداد کا تعلق ہے انتہا تک پہنچا دینا ہے راستہ میں نہیں چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے :۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الخَيْرَ لَعَلَّمـ للِحُونَ وَجَاهِدُوا فِي اللهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبكُمُ (الحج: ۷۹،۷۸ ) اللہ تعالیٰ ان آیات میں یہ فرماتا ہے کہ الہی احکام کی تعمیل میں اپنی گردنیں جھکا دو وَاعْبُدُوا اور کمال ادب اور کمال نیستی اور تذلل اختیار کر کے عبادت میں لگ جاؤ وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ آن کریم کے بتائے ہوئے سارے ہی احکام پر عمل کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔عام معمولی کام نہیں کرنے بلکہ آگے فرمایا وَ جَاهِدُوا فِي اللهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبكُمُ اس نے تمہیں مسلمہ بنا کر ایک برگزیدہ مقام عطا کیا ہے اس لئے ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ چونکہ ہم نے تمہیں مجتبی بنایا ہے۔برگزیدہ جماعت بنایا ہے۔وَجَاهِدُوا فِي اللهِ حَقَّ جِهَادِمِ اللہ کی راہ میں جہاد کا حق ادا کرو ورنہ یہ بزرگی تم سے واپس لے لی جائے گی اور ایک وہ قوم کھڑی کی جائے گی جو اسلام کو دنیا میں غالب کرے گی۔غرض اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑا احسان اپنا یاد دلایا اور پھر ایک یہ مطالبہ کیا۔اللہ تعالیٰ نے احسان یاد دلایا کہ دیکھو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور