خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 239 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 239

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۳۹ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب اطاعت کی حقیقت ہے۔اور مسلمان وہ ہے جس نے اپنا منہ ذبح ہونے کے لئے خدا تعالیٰ کے آگے رکھ دیا ہو اور اپنے نفس کی اونٹنی کو اس کے لئے قربان کر دیا ہو اور ذبح کے لئے پیشانی کے بل اس کور گرا دیا ہو اور موت سے یک دم غافل نہ ہو۔“ خطبہ الہامیہ۔روحانی خزائن جلد نمبر ۱۶ صفحه ۳۶،۳۵) ایک صفت جو ہمارے اندر پیدا ہونی چاہئے وہ یہ ہے کہ ہمیں عادت ہو کام کو انجام تک پہنچانے کی یعنی جو کام بھی ہم کریں ہم انتہائی کوشش کر کے اس کو انتہا تک پہنچاویں کامیاب انتہا تک۔راستے میں روکیں آئیں، ہمیں لوگ ہر قسم کا دُکھ دیں کہ یہ کام نہیں کرنے دیں گے یا ہماری آزمائش کے لئے آفات آسمانی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی جائیں یا شیطان ہمارے دل میں وسوسے پیدا کرے یا ہمارا نفس امارہ ہمیں یہ کہے کہ کس کام میں تم لگے ہو۔چند دن کی زندگی۔عیش کر لو یہ بھی ایک شیطانی وسوسہ نفس امارہ کے ذریعہ سے ہوتا ہے جو انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے لیکن کچھ ہو جائے ہم میں یہ عادت ہو ہماری یہ صفت ہو کہ ساری دنیا اسے جانیں کہ احمدی وہ ہیں کہ جب وہ کام شروع کرتے ہیں اس کو چھوڑتے نہیں جب تک وہ اسے کامیاب انجام تک نہ پہنچا ئیں۔بات یہ کہ ہمیں اس زندگی میں چھوٹے چھوٹے اور غیر اہم کام بھی کرنے پڑتے ہیں اور ہماری زندگی کا یہ مقصد نہیں۔ہماری زندگی کا یہ مقصد ہے کہ ساری دنیا پر اسلام کو غالب کرنا ہے ہم نے ہر دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کو پیدا کرنا ہے ہم نے ہر شخص کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطیع بنانا ہے۔یہ کام آسان نہیں اگر ہم چھوٹے چھوٹے کاموں میں اس بات کے عادی نہ ہوں کہ جو کام ہم شروع کریں اُس کو انجام تک پہنچا ئیں تو اتنے اہم کام میں ہم کس طرح کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔جس کی راہ میں ہزار ہا بلکہ میں کہوں گا کہ بے شمار روکیں ہیں۔یہ تو نہیں کہ آپ آرام سے اسلام کو ساری دنیا میں غالب کر دیں گے شیطان خاموش نہیں بیٹھے گا طاغوتی قوتیں آپ کو مٹانے اور نا کام بنانے کے لئے ہر کوشش کریں گی لیکن آپ کے اندر روح مجاہدہ ہونی چاہئے صفت جہاد آپ کے اندر ہونی چاہئے تلوار کا جہاد نہیں گو ضرورت پڑے تو جان بھی دینی ہے شرائط اگر پوری ہوں تو تلوار یا ایٹم بم کا استعمال بھی ٹھیک ہے لیکن روح یہ ہونی چاہئے جو اصل معنی کے لحاظ سے اور اسلام جو مطالبہ کرتا ہے ہر احمدی کے اندر روح مجاہدہ ، صفت جہاد ہونی چاہئے۔جہاد کے معنی ہوتے