خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 230
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء)۔۲۳۰ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا میں بعض لوگ اپنے باپوں سے بے انتہا محبت کرتے ہیں اور بعض لوگ اپنے بچوں سے بڑی محبت کرتے ہیں۔بعض لوگ اپنے بھائیوں سے محبت کرتے ہیں اور بعض لوگ اپنی بیویوں سے انتہائی محبت کا تعلق رکھتے ہیں۔بعض لوگ اپنے قرابت داروں سے محبت رکھتے ہیں، بعض لوگ اپنے اموال کی محبت میں اپنے بچوں تک کو قربان کر دیتے ہیں اور اس کی پرواہ نہیں کرتے۔بعض لوگ تجارت میں اتنے منہمک اور اس سے اتنا دلی تعلق رکھتے ہیں کہ دنیا کی ہر قربانی دے دیتے ہیں لیکن اپنی تجارت کو نقصان پہنچانے کے لئے تیار نہیں ہوتے فرض کرو کہ اگر کسی کا باپ سخت بیمار ہے اور تجارتی لحاظ سے کام کے دن ہیں تو وہ اپنے اس باپ کے پاس نہیں جائے گا کہ کہیں تجارت میں نقصان نہ ہو جائے۔بعض لوگوں کو اپنی کوٹھیوں اور محلوں سے بڑی محبت ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ محبت جس چیز سے تمہیں ہو اس محبت سے زیادہ اگر خدا اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں قربانی دینے کے ساتھ تمہیں محبت نہیں تو تم فاسق ہو اور فاسقوں کے متعلق اللہ تعالیٰ اس دنیا میں فیصلہ کرے گا اور فوری فیصلہ نہیں کرے گا فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِي اللهُ بِأَمرِه وہ چونکہ بڑا رحم کرنے والا خدا ہے اس لئے اصلاح کا ایک موقع دے گا۔وہ تمہیں موقع دے گا کہ تم اپنی اصلاح کرو اور اپنی ساری محبتوں کو خدا اور اس کے رسول کی محبت پر قربان کر دو لیکن اگر تم اس نہایت خطرناک غلطی کے مرتکب ہونے کے باوجود اصلاح کے موقع سے فائدہ نہ اٹھاؤ تو يَأْتِيَ اللهُ بِأَمْرِ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اس دنیا میں تم پر صادر ہو جائے گا اور وہ فیصلہ یہ ہے کہ تم فاسق قرار دیئے جاؤ گے اور ان انعامات سے محروم کر دیئے جاؤ گے جو ہدایت یافتہ قوم کو ملتے ہیں خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا سے تم محروم کر دئیے جاؤ گے تمہارا انجام بخیر نہیں ہوگا۔یہ محبت ہے جس قسم کی محبت کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسلام مطالبہ کرتا ہے اور جو ہر احمدی کے دل میں ہونی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑا لطیف نکتہ بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اتنی محبت ہونی چاہئے کہ روحانی طور پر کوئی فیض آپ کی اتباع کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔اس مقام پر آدمی کھڑا ہو جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مختلف قسم کی ریاضتیں جو بعد میں مسلمانوں نے بھی بنا لیں وہ ان میں نہیں پڑے گا اور اس محبت کے تقاضا سے مجبور ہوگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی تعلق قائم رکھے۔