خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 229 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 229

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۲۹ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب تو اس کا کروڑواں حصہ ابھی پورا نہیں ہو گا یعنی جتنے احسان اللہ تعالیٰ آپ پر کر چکا ہے اگر آپ اپنی زندگی کے ہر سانس میں ان کا شکر یہ ادا کرنا چاہیں تو آپ کی زندگی کے سانس ختم ہو جائیں گے اور ان نعمتوں میں سے کروڑواں حصہ بھی نہیں ہو گا جس کا آپ شکر یہ ادا کر چکے ہوں گے باقی ایسی ہی رہ جائیں گی بغیر شکریہ کے۔تو ایسی ہستی جو اپنے حسن میں کمال رکھتی ہے حسن نام رکھتی ہے اور وہ ہستی جس کے احسانوں کا کوئی شمار نہیں ہو سکتا اس کے ساتھ (اگر اس کا عرفان حاصل ہو جائے ) محبت ذاتی کا پیدا ہونا ضروری ہے اگر وہ محبت ذاتی پیدا نہیں ہوتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنے رب کی معرفت حاصل نہیں۔پس یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے رب کی صفات اور اس کی ذات کی معرفت حاصل کریں اور محبت ذاتی کو اگر انتہا تک پہنچا دیں جس انتہا تک پہنچانا ہماری طاقت اور استعداد میں ہو اور اس محبت ذاتی کے بعد ( محبت کا یہ تقاضا ہے کہ ) انسان خود کو کوئی چیز نہیں سمجھتا۔محبت میں اپنے محبوب کے مقابلہ میں کامل نیستی کا جامہ پہننا پڑتا ہے۔یہ دنیا کی محبتیں عارضی اور بعض دفعہ بیہودہ سی ہوئی ہیں۔ان میں لوگ بغیر کسی فیض کے حصول کے یا فیض کے حصول کے امکان پر ہر قسم کی قربانی کرتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی ذات کا حسن اور احسان کے جلوے دیکھنے کے بعد پھر انسان اپنا نہیں رہتا بلکہ سب کچھ رب کے لئے ہو جاتا ہے اور اس پر فدا ہو رہا ہوتا ہے تو پہلی صفت یا خاصیت یا خُلق جو آپ کے اندر پیدا ہونا چاہئے اور مضبوط ہونا چاہئے اور بیدار ہونا چاہئے وہ اللہ تعالیٰ کی محبت ذاتی ہے۔دوسری صفت جو ہم احمدیوں میں نمایاں ہونی چاہئے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب خدا تمہیں یہ کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پیار و محبت کرو تو اللہ تعالیٰ کا اس محبت سے کس قسم کی محبت کا منشاء ہوتا ہے تو سنو۔قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَاَمْوَالُ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسْكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ الَيْكُمْ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِأَمْرِه وَاللهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفَسِقِينَ ( التوبة : ۲۴)