خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 226
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب کے وعدہ کے مطابق محفوظ ہے۔جس طرح کہ آج سے چودہ سو سال پہلے تھی لیکن برکات بیت اللہ سے اسی وقت دنیا نے ایک لمبے عرصہ تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ اور بعد کی صدیوں میں فائدہ اٹھایا۔اللہ تعالیٰ نے آسمان پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ پھر سے اسلام کو تمام دنیا پر غالب کرے اور تمام اقوام عالم کے دل اس کے بعض بندے خدا اور اس کے محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے جیتیں اور اس طرح پر بیت اللہ کی ان تمام برکات سے بنی نوع انسان فائدہ اٹھائیں جن برکات سے آج سے چودہ سو سال قبل اس دنیا نے فائدہ اٹھایا تھا ان برکات کے انتشار کے لئے ، ان کو دنیا میں پھیلانے کے لئے بنی نوع انسان کو ان برکات سے روشناس کرانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو قائم کیا ہے۔اس لئے جماعت احمدیہ کے ہر فرد کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے اندران بنیادی خوبیوں کو پیدا کرے جو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں ہمیں نظر آتی ہیں جب تک ہمارا سوچنا اور ہمارا غور کرنا اور ہمارا کہنا اور عمل کرنا بالکل ویسا ہی نہ ہو جائے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کا تھا۔اس وقت تک ہم اپنی اس بنیادی ذمہ داری کو کامیابی کے ساتھ نہیں نباہ سکتے کہ بیت اللہ کی برکات سے ساری دنیا کومستفیض کریں اور وہ تمام مقاصد جن میں سے تمھیں مقاصد کا ذکر میں نے اپنے خطبات میں کیا ہے وہ حاصل ہوں۔ان اغراض کو پورا کرنے اور ان مقاصد کے حصول کے لئے بنیادی طور پر نو باتوں کا ہمارے ނ اندر پایا جانا ضروری ہے ہم میں نو صفات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکت۔کمزور رنگ میں یا پختہ طور پر یا بعض کے اندر چھپی ہوئی اور بعض میں نمایاں پائی جاتی ہیں ان صفات کو اور پختہ کرنا اور ان صفات اور اخلاق کے رنگ کو اور گہرا کرنا ہے اور سوچ کے اور عمل کر کے ہم نے یہ نیت کہ دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے۔پہاڑ اپنی جگہ پر ٹھہرے رہیں یا وہاں سے اڑا دئے جائیں ہم اپنی ذمہ داری کو انشاء اللہ اسی کی توفیق سے ضرور نبھا ئیں گے۔میہ نو صفات جن کے متعلق میں اس وقت کچھ کہنا چاہتا ہوں ان میں سے بعض کے متعلق تو شاید آپ پہلے بھی اور اکثریت سے سنتے رہے ہوں گے لیکن یہ اس قسم کی بنیادی چیزیں ہیں کہ مجموعی طور پر ان کا آپ کے سامنے رکھا جانا ضروری ہے اور وہ یہ ہیں۔