خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 225
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۲۵ ۱۳/ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب ہر فر د جماعت کو چاہئے کہ اپنے اندر صحابہ رسول والی بنیادی خوبیاں پیدا کرے اختتامی خطاب جلسه سالا نه فرموده ۱۳ /جنوری ۱۹۶۸ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔گذشتہ سال میں نے چند خطبات میں ان مقاصد پر روشنی ڈالی تھی جن کا تعلق خانہ کعبہ کی از سرنو تعمیر سے تھا اور میں نے بتایا تھا کہ یہ تمام مقاصد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں بنی نوع انسان کو حاصل ہونے تھے۔میرا خیال تھا کہ میں اس جلسہ پر آج کے دن اس تمہید کے بعد وہ عملی منصوبہ جماعت کے سامنے رکھوں جو میں الہی منشاء کے مطابق رکھنا چاہتا ہوں لیکن ایک دن قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے میری توجہ اس طرف پھری کہ ان مقاصد کے حصول کے لئے قوم میں بہت سی بنیادی صفات کا پایا جانا ضروری ہے اور قبل اس کے کہ میں وہ عملی منصوبہ جماعت کے سامنے رکھوں مجھے احباب جماعت کو ان بنیادی صفات، اخلاق یا خواص کی طرف متوجہ کرنا چاہئے ، جو خدا کی ایک برگزیدہ جماعت میں پائے جاتے ہیں، پائے جانے چاہئیں اور ان سے یہ توقع رکھوں کہ وہ تدبیر اور دعا کے ساتھ اپنے ان اخلاق کو اور اپنی ان صفات کو اور بھی پختہ کر لیں گے۔تا کہ جس وقت عملی منصوبہ ان کے سامنے رکھا جائے تو عمل کرنے کے لئے وہ پوری طرح تیار ہوں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ جب دعوای کیا تو اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں نسلاً بعد نسل مسلمان ان قربانیوں کو دیتے چلے گئے جن کے نتیجہ میں مقاصد تعمیر بیت اللہ بنی نوع انسان کو حاصل ہوئے اور ایک دنیا نے امت مسلمہ سے ہر قسم کا دینی اور دنیوی ، مادی اور روحانی فائدہ اٹھایا لیکن غفلت اور زوال کا ایک زمانہ بھی مقدر تھا جس کی خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے سے دے رکھی تھی اس لئے پھر وہ زمانہ آیا کہ اگر چہ بیت اللہ کی عمارت اس طرح قائم اور خدا تعالیٰ