خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 207
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۰۷ ۱۲/جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطا۔ہمارے اس سفر کے متعلق جو باتیں میں نے کہیں ان کے متعلق صرف اخباروں نے نہیں لکھا بلکہ ریڈیو نے بھی انٹرویو نشر کئے اور خبریں دیں اور ٹیلی ویژن والوں نے بھی ہم سے بڑا تعاون کیا بلکہ ان کے نمائندے وہ جواب اچکتے تھے جو ہمارے لئے سب سے اچھے اور عیسائیت کے لئے سب سے خراب تھے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ ایک نمائندہ نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کس طرح اسلام کو پھیلائیں گے؟ میں نے کہا تمہارے دلوں کو جیت کر۔انہوں نے کہا ہم نے یہ جواب ضرور لینا ہے حالانکہ یہ جواب ان کو نہیں لینا چاہئے تھا انہیں تو کوئی ایسی بات لینی چاہئے تھی جو غلطی سے میرے منہ سے نکل جاتی یا ایسے رنگ میں نکلتی کہ وہ اس کو غلط جامہ پہنا دیتے۔بہر حال الہی تصرف تھا جو ہمیں ہر جگہ نظر آ رہا تھا۔ریڈیو والوں کے متعلق میں صرف اتنی بات بتا دیتا ہوں کہ لنڈن میں بغیر اطلاع کے بی بی سی کانمائندہ آ گیا تھا۔میں نے اس سے کہا تم مجھ سے تبادلہ خیالات کرو۔پتہ نہیں تم کیا سوال لکھ لائے ہو۔مجھے تو ان کا پہلے پتہ لگنا چاہئے تھا کہنے لگا نہیں نہیں۔اس کی کیا ضرورت ہے۔یہ کاغذ پڑا ہوا ہے۔اس پر میں نے بعض سوالات لکھے ہوئے ہیں میں بولتا جاؤں گا اور آپ جواب دیتے جائیں۔ایک سیکنڈ کے لئے میں ضرور گھبرایا لیکن پھر میں نے سوچا کہ جب پہلے مجھ سے سوال کئے گئے تھے تو میں نے کون سے جواب دیئے تھے اس وقت اللہ تعالیٰ جواب سکھاتا تھا اور میں دے دیتا تھا اب بھی وہ خدا تی اپنے کامل علم اور کامل قدرت کے ساتھ میری مدد کرے گا۔چنانچہ میں نے اسے کہا اچھی بات ہے تم سوال کرتے جاؤ اور میں جواب دیتا جاؤں گا۔مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ اس نے کیا سوال کئے اور میں نے کیا جواب دیئے۔لیکن مجھے یہ پتہ ہے کہ تین ہفتے متواتر بی بی سی نے اپنے ویکلی (ہفتہ وار ) پروگرام آؤٹ لک (out look) میں براڈ کاسٹ کیا اور یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ بی بی سی ایک پروگرام کو ایک ہفتہ کے بعد دوسری دفعہ اور پھر تیسری دفعہ براڈ کاسٹ کرے اور ساری دنیا میں وہ آواز گونجی وہ آواز میری نہیں تھی بلکہ وہ آواز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تھی۔پہلی دفعہ جب یہ انٹرویو براڈ کاسٹ ہوا تو ہم لنڈن ہی میں تھے۔10 اور ا ار اگست کی درمیانی رات دو مختلف فری کو مکسیز اور مختلف وقتوں میں وہ براڈ کاسٹ کیا گیا لیکن وہ ایک دن کا پروگرام تھا۔پھر اگلے ہفتہ ہوا۔پھر تیسرے ہفتہ یا ۲۳ اگست کو ( غالباً ۲۳ تاریخ تھی ) مولوی نذیر احمد صاحب علی کے لڑکے نے جو مغربی افریقہ