خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 206
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۰۶ ۱۲ جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب اور اتنے رحمت کے نشان دکھائے کہ میری عقل تو دیکھ کے حیران رہ جاتی ہے کہ کجا ہم عاجز بندے اور کجا اللہ تعالیٰ کے فضل جو ہم پر نازل ہو رہے ہیں اور جب میں نے کہا کہ اثر ڈالے اور میرے وجود میں اور میری ہر حرکت اور سکون میں کوئی ایسی چیز پیدا کر دے کہ وہ اس سے متاثر ہوں تو اس کو بھی اللہ تعالیٰ نے قبول کیا۔قریباً ہر ملک کے اخباروں نے نوٹ لکھنے سے پہلے بڑے ہی تعریفی کلمات میرے متعلق بھی لکھ دیئے۔یہاں تک کہ بڑے بڑے پادریوں نے اور بڑے بڑے ماہرین علوم اور مستشرقین نے جو مجھ سے ملے ، بڑے تعریفی کلمات انہوں نے کہے اور مجھے اونٹوں پر موتیں یاد آ گئیں اور میں نے سمجھا کہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا۔بلکہ وہ دیکھا ہے جو خدا تعالیٰ انہیں دکھانا چاہتا تھا جیسا کہ اونٹوں پر موتیں دکھائی گئی تھیں اور وہ واقعہ یوں ہے کہ بدر کے میدان میں مسلمانوں کی فوج یا مجاہد ایک طرف تھے اور کفار کا لشکر دوسری طرف۔کفار نے ایک شخص کو بھیجا کہ وہ اندازہ لگائے کہ مسلمانوں کا کتنا بڑ الشکر ہے اور ان کے پیچھے کوئی کمک تو نہیں چھپی ہوئی چنا نچہ وہ آیا اور اندازہ لگایا۔واپس جا کر کفار کو اس نے یہ بتایا کہ میرے اندازے کے مطابق مسلمان تین سو کے لگ بھگ ہیں اور کمک بھی کوئی نہیں لیکن میں تمہیں یہ بتا تا ہوں کہ میں نے اونٹوں پر انسان نہیں موتوں کو سوار دیکھا ہے۔اس لئے میرا مشورہ ہے کہ تم اس قوم سے جو موتیں ہیں انسان نہیں جنگ نہ کرو بلکہ واپس لوٹ جاؤ ور نہ شکست کھاؤ گے پس جس خدا نے اس شخص کو اونٹوں پر موتوں کا نظارہ دکھایا تھا۔اس خدا نے ان لوگوں کو جو شخص دکھا یا وہ میں نہیں تھا بلکہ وہ تھا جو خدا انہیں دکھانا چاہتا تھا۔غرض وہ تعریفی کلمات کہتے تھے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔مجھے اونٹوں پر موتیں یاد آ گئیں اور اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت اور تصرف تھا کہ میرے جیسے انسان کے متعلق جو نہایت ہی حقیر اور نالائق اور کم مایہ ہے اور عاجز ہے انہوں نے یہ کلمات کہے لیکن میں خوش تھا اس لئے نہیں کہ میری تعریف کی جارہی ہے بلکہ اس رنگ میں وہ مجھے نہ دیکھتے تو میری باتوں کی طرف توجہ نہ کرتے اور ان کے اخبارات اس تعلیم کو شائع نہ کرتے جو میں چاہتا تھا کہ وہ شائع کریں اور ہمارا مقصد حاصل نہ ہوتا۔چنانچہ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے وہ سامان پیدا کر دیئے کہ وہ اپنے اخباروں میں وہ کچھ لکھنے پر مجبور ہوئے کہ دوسری صورت میں وہ ہرگز نہ لکھتے جو میں نے کہا اور انہوں نے لکھا اس کے چند نمونے میں دوستوں کے سامنے رکھوں گا لیکن اس سے پہلے میں کچھ اور کہنا چاہتا ہوں۔