خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 189
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۸۹ ۱۲ جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب لجنہ اماءاللہ نے بہت سی کتب شائع کی ہیں۔۔الازهار لذوات الخمار ( مجموعه تقارير حضرت مصلح موعود درضی اللہ عنہ جو حضور مستورات کے جلسہ میں فرماتے رہے ) اسی طرح ۲ - المصابیح ( مجموعہ تقاریر) چند تقاریر جو اس وقت تک خلافت ثالثہ میں ہو چکی ہیں ان کا یہ مجموعہ ہے ۳۔یا محمود۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی یاد میں احباب جماعت کی نظموں کا مجموعہ ۴۔مختصر تاریخ احمدیت یعنی لجنہ اماءاللہ کی طرف سے شائع کی گئی ہے بچوں کے لئے تاریخ احمدیت کا علم ہونا ضروری ہے۔۵۔راہ ایمان لجنہ اماءاللہ نے شائع کی ہے یہ بچوں کے لئے دینی مسائل پر مشتمل آسان زبان میں کتاب ہے۔نظارت اصلاح وارشاد نے اسلامی اصول کی فلاسفی اور کشتی نوح “ بڑی دیدہ زیب شائع کی ہیں اسلامی اصول کی فلاسفی“ ہر مسلمان اور غیر مسلم کو بہت فائدہ دیتی ہے میرے پاس غیر ملکوں سے لوگوں کے خطوط بڑی تعداد میں آتے رہتے ہیں جن کے پاس اسلامی اصول کی فلاسفی گئی ہے۔انہوں نے بڑے حیران ہو کر اس کو پڑھا کہ اسلام یہ ہے اور اسلام کی نمائندگی میں کوئی شخص خدا تعالیٰ کی توفیق سے اس قسم کا مضمون لکھ سکتا ہے۔وہ محو حیرت ہو جاتے ہیں اور بڑا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ہمارے بڑے مخلص احمدی جن کا مطالعہ کم ہے وہ بھی بڑا فائدہ اٹھاتے ہیں اور جو دوسرے ہیں وہ بھی بڑا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ابھی اسلامی اصول کی فلاسفی“ کا انگریزی میں ترجمہ تحریک جدید والوں نے غالباً ایک لاکھ کی تعداد میں شائع کیا ہے اور وہ مختلف ممالک میں گیا ہے۔ہمارے گورنر جنرل گیمبیا الحاج ایف ایم سنگھائے تک جب یہ پہنچا۔( ان کی نظر سے یہ کتاب پہلی دفعہ گزری تھی ) تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ مجھے اور کا پیاں دوتا میں پرائم منسٹر اور بعض دوسرے لوگوں کو دوں جو ابھی اسلام میں پختہ نہیں۔وہاں کے پرائم منسٹر بھی ان کی تبلیغ سے مسلمان ہوئے ہیں لیکن ابھی احمدی نہیں ہوئے انہیں ابھی اسلام کا مطالعہ نہیں۔بہر حال گورنر جنرل صاحب نے کہا میں یہ کتاب بعض لوگوں کو پڑھانا چاہتا ہوں تا انہیں پتہ لگے کہ اسلام کی حقیقت کیا ہے۔کشتی نوح تربیت کے لئے اور دوسرے لوگوں کو یہ بتانے کے لئے کہ ہم کیا ہیں اور کس رنگ میں ہماری تربیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کی ہے اور کرنا چاہتے ہیں بڑی مفید کتاب ہے جتنی زیادہ دفعہ اسے پڑھیں اتنی ہی زیادہ برکت حاصل کر سکتے ہیں۔یہ دونوں کتابیں دس دس ہزار کی تعداد میں چھپی ہیں۔مجھے تو دس ہزار کی تعداد بہت تھوڑی