خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 183 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 183

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۸۳ ۱۱؍ جنوری ۱۹۶۸ء۔افتتاحی خطاب تم خدا کی وہ جماعت ہو جسے اسلام کے عالمگیر غلبہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور اس مہم کو کامیاب انجام تک پہنچانے کی راہ میں تمہیں ہزار دُکھ اور اذیتیں سہنی ہوں گی اور ہر قسم کے ابتلا اور آزمائشوں میں تم کو ڈالا جائے گا۔دُعا ہے کہ ہر امتحان میں تم کامیاب رہو اور ہر آزمائش کے وقت ربّ کریم سے ثبات قدم کی تم توفیق پاؤ۔بس اسی کے ہو جاؤ۔وہ مہربان آقا تمہیں پاک اور صاف کر دے اور پیارے بچے کی طرح تمہیں اپنی گود میں لے لے اور ہر نعمت کے دروازے تم پر کھولے اور تمام حسنات کا تم کو وارث بنائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں میں تمہیں کہتا ہوں کہ اگر تم اپنے نفس سے در حقیقت مر جاؤ گے تب تم خدا میں ظاہر ہو جاؤ گے اور خدا تمہارے ساتھ ہوگا اور وہ گھر بابرکت ہوگا جس میں تم رہتے ہو گے اور ان دیواروں پر خدا کی رحمت نازل ہوگی جو تمہارے گھر کی دیواریں ہیں اور وہ شہر بابرکت ہوگا جہاں ایسا آدمی رہتا ہو گا۔اگر تمہاری زندگی اور تمہاری موت اور تمہاری ہر ایک حرکت اور تمہاری نرمی اور گرمی محض خدا کے لئے ہو جائے گی اور ہر ایک تلخی اور مصیبت کے وقت تم خدا کا امتحان نہیں کرو گے اور تعلق کو نہیں تو ڑو گے بلکہ آگے قدم بڑھاؤ گے تو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ تم خدا کی ایک خاص قوم ہو جاؤ گے۔پس اپنی پاک تو توں کو ضائع مت کرو۔اگر تم پورے طور پر خدا کی طرف جھکو گے تو دیکھو میں خدا کی منشاء کے مطابق تمہیں کہتا ہوں کہ تم خدا کی ایک قوم برگزیدہ ہو جاؤ گے۔۔تمہیں خوشخبری ہو کہ قرب پانے کا میدان خالی ہے۔ہر ایک قوم دنیا سے پیار کر رہی ہے اور وہ بات جس سے خدا راضی ہو اُس کی طرف دنیا کو توجہ نہیں۔وہ لوگ جو پورے زور سے اس دروازہ میں داخل ہونا چاہتے ہیں ان کے لئے موقعہ ہے کہ اپنے جوہر دکھلائیں اور خدا سے خاص انعام پاویں۔(رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد نمبر ۲۰ صفحہ ۳۰۹،۳۰۸) خدا کرے کہ آسمان کے فرشتے تمہیں یہ مژدہ سنا ئیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری عاجزانہ