خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 182
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۸۲ ۱۱؍ جنوری ۱۹۶۸ء۔افتتاحی خطاب اول یہ کہ ہم جو خود کو اس موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے ہیں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے الہاما یہ بتایا کہ انتَ الشَّيْخُ الْمَسِيحُ الَّذِي لَا يُضَاعُ وَقْتُهُ ( تذکرہ ایڈیشن چہارم : صفحه ۵۵۰ ) ہمارے اوقات دُعاؤں سے معمور رہیں کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ ہر وہ لحظہ جو خدا کی بھول اور اس سے غفلت میں صرف ہوتا ہے وہ ضائع ہو جاتا ہے اور ہر وہ منٹ ہماری زندگی کا جو اللہ تعالیٰ کی یاد سے معمور ہو وہی وہ وقت ہے جس کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ ضائع نہیں ہوا بلکہ صحیح مصرف پر اس کا خرچ ہوا۔پس ان ایام میں خصوصاً اور ساری ہی زندگی میں عموماً اپنے اوقات کو دُعاؤں سے معمور رکھیں۔دعاؤں میں اپنے نفسوں کو ، اپنی عاقبت کو ، اپنے بچوں کو، اپنے خاندان کو ، اپنے ہمسایہ کو اپنے ہم وطنوں کو دُنیا کے سب مکینوں کو یا درکھیں اور دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس وطن کو زیادہ سے زیادہ مستحکم کرتا چلا جائے اور ہمارے اس ملک کے استحکام کو غلبہ اسلام میں محمد بنائے اور اللہ تعالیٰ ہمارے ہم وطنوں کے سینوں کو قرآن کریم کے حقیقی انوار قبول کرنے کے لئے تیار کر دے اور ان کی بصارت کو تیز کر دے اور ان پر حقیقت آشکار کرے کہ غلبہ اسلام کے لئے جو مہم آسمانوں سے جاری کی گئی ہے وہ اس میں ہمارے ساتھ برابر کی شریک بن جائیں۔میری یہ دعا ہے کہ اللہ کرے کہ تم پاک دل اور مطہر نفس بن جاؤ اور نفس امارہ کے سب گند اور پلید یاں تم سے دُور ہو جائیں۔تکبر اور خود بینی اور خود نمائی اور خودستائی کا شیطان تمہارے دل اور تمہارے سینہ کو چھوڑ کر بھاگ جائے اور تذلل اور فروتنی اور انکسار اور بے نفسی کے نقوش تمہارے اس سینہ کو اپنے رب کے استقبال کے لئے سجائیں اور پھر میرا اللہ اس میں نزول فرمائے اور اسے تمام برکتوں سے بھر دے اور تمہارے دل اور تمہاری روح کو ہر نُور سے منور کر دے اور خدا کرے کہ بنی نوع کی ہمدردی اور غم خواری کا چشمہ تمہارے اس سینہ صافی سے پھوٹے اور ایک دُنیا تمہارے بے نفس خدمت سے فائدہ اُٹھائے۔خدا کرے کہ عاجزانہ دعاؤں کے تم عادی رہو اور تمہاری رُوح ہمیشہ اللہ رب العلمین کے آستانہ پرگری رہے اور اللہ ، اس کی رضا اور اس کے احکام کی اتباع ہر ایک پہلو سے تمہاری دُنیا پر تمہیں مقدم ہو جائے۔