خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 6
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۰ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔دوسرے روز کا خطار کی بعض کتب چھوٹی چھوٹی ہیں لیکن ان میں سینکڑوں نہیں ہزاروں نئی باتیں پائی جاتی ہیں مثلاً سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ایک چھوٹا رسالہ ہے جس کا حجم صرف اکسٹھ ۶۱ صفحے چھوٹی تقطیع کے ہیں لیکن اگر آپ اسے غور سے پڑھیں تو اس میں بھی آپ کو سینکڑوں دلائل عیسائیت کے غلط عقائد کی تردید میں ملیں گے۔پہلی بار پڑھیں گے تو پندرہ ہیں دلائل نظر آئیں گے۔دوسری بار پڑھیں گے تو اس قدر اور دلائل آپ کی نظر میں آجائیں گے۔تیسری بار پڑھیں گے تو کچھ اور دلائل کا علم ہوگا۔جو پہلے آپ کی نظر سے اوجھل رہے تھے۔علی ھذا القیاس بار بار کے مطالعہ سے نئے سے نئے دلائل نگاہ میں آنے کا یہ سلسلہ چلتا جائے گا۔یہی حال آپ کی دوسری کتب کا ہے۔در حقیقت ہماری روح کی غذا ان کتب میں پائی جاتی ہے۔پھر ان کے بعد آپ کے خلفاء کی تحریریں ہیں۔چاہے وہ کتب کی شکل میں ہوں ، رسائل کی شکل میں ہوں ، یا چھپے ہوئے خطبات کی شکل میں ہوں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے بعد علم کا دروازہ جماعت کے او پر بند ہو گیا ہے۔نہیں۔اللہ بڑا دیالو ہے۔اس نے جماعت پر علم کے دروازے کھلے رکھے ہیں اور ہماری دعا ہے کہ خدا تعالیٰ قیامت تک یہ دروازے کھلے رکھے۔آمین۔جیسا کہ ہماری جماعت کے لٹریچر میں ہر سال مفید اضافہ ہوتا ہے۔اس سال بھی ہوا ہے اور بعض شائع کنندگان نے جرأت کر کے مجھے لکھ دیا ہے کہ میں ان کی شائع کردہ کتب کی خریداری کی تحریک جماعت میں کر دوں ” بعض میں اس لئے کہتا ہوں کہ بعض کتب ایسی بھی ہوں گی۔جو اس سال شائع تو ہوئی ہیں لیکن شائع کرنے والوں نے مجھے ان کی خریداری کی تحریک کرنے کے لئے نہیں لکھا۔بہر حال جماعت کو ان سب کی خریداری کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔جن لوگوں کو خدا تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی ہے ان کو پوری کوشش اور جدو جہد کرنی چاہئے کہ ہماری زندگی کا کوئی سال ایسا نہ گزرے جس میں درجنوں نئی کتب جو علمی معیار کی ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیان کردہ نئے نئے حقائق پر مشتمل ہوں ہم شائع نہ کریں۔تاہم دنیا پر اپنے اس دعوی کو ثابت کر سکیں کہ جس طرح قرآن کریم ایک زندہ کتاب ہے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی لکھی ہوئی قرآن کریم کی تفسیر بھی زندہ تفسیر ہے اور اس سے ہمیشہ نئے سے نئے علوم نکلتے رہتے ہیں۔غرض بنیادی کتب ہمارے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب ہیں۔ان کے