خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 5 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 5

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۰ دسمبر ۱۹۶۵ء۔دوسرے روز کا خطار تحریک جدید کے اجرا کی غرض دنیا میں ایک عظیم روحانی انقلاب پیدا کرنا تھا دوسرے روز کا خطاب جلسہ سالانہ فرموده ۲۰ / دسمبر ۱۹۶۵ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسوۂ حسنہ کے مطابق میں آج عمومی رنگ میں بعض باتیں دوستوں سے کہوں گا سب سے پہلی بات یہ ہے کہ بعض کتابوں اور رسائل کے متعلق مجھ سے خواہش کی گئی ہے کہ میں دوستوں کو ان کی خریداری کے متعلق تحریک کروں۔ان کے متعلق میں ایک اصولی بات دوستوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ ہماری کتب اور لٹریچر میں بنیادی اور مرکزی حیثیت رکھنے والی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب ہیں۔آپ کے بعد آپ کے خلفاء کی کتب ہیں اور ان کے بعد علماء سلسلہ اور دوسرے احباب کا پیدا کردہ لٹریچر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے علم کا اتنا بڑا ذخیرہ عطا کیا تھا کہ آپ کی کتب میں قیامت تک کے مسائل کے لئے ضروری مواد موجود ہے آپ کی بیان کردہ قرآن کریم کی تفسیر آج کی تمام ضروریات کو پورا کرتی ہے آپ کی خواہش کے مطابق ہر احمدی کو اپنی زندگی میں کم سے کم تین بار آپ کی کتب کا مطالعہ کرنا چاہئے اور اگر کوئی خوش قسمت احمدی ایسا ہے جسے اللہ تعالیٰ زندگی بھی دے اور اس بات کی توفیق بھی عطا کرے کہ وہ تین بار نہیں ، تین سو بار بھی ان کتب کو پڑھے تب بھی اس کی طبیعت سیر نہیں ہوگی۔کیونکہ اس سمندر میں سے ( جب بھی آپ غوطہ لگائیں گے ) نئے سے نئے موتی آپ کو ملتے چلے جائیں گے۔میں نے خود بھی حضور کی بعض کتب کو دس۔پندرہ دفعہ پڑھا ہے اور ہر دفعہ مطالعہ کے وقت میں نے محسوس کیا ہے کہ نہ جانے پہلی بار میری نظر سے وہ باتیں اوجھل کیوں ہو گئی تھیں۔جواب میں پڑھ رہا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام