خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 129 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 129

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۲۹ ۲۷ / جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطاب اس وقت تک فضل عمر فاؤنڈیشن کے وعدوں کی مجموعی میزان اللہ تعالیٰ کے فضل سے چونتیس لاکھ سے زائد ہو چکی ہے اس میں سے سات لاکھ چھ ہزار بیرون پاکستان کے ممالک کے وعدے ہیں جہاں تک بیرونی ممالک کا تعلق ہے بعض ممالک سے ابھی وعدے آ رہے ہیں۔وہاں اس تحریک نے زورا بھی نہیں پکڑا لیکن اُمید ہے کہ وہاں بہت سے نئے وعدے آجائیں گے اس وقت تک کل وصولی سات لاکھ چھپن ہزار روپیہ کی ہو چکی ہے اپریل ۱۹۶۷ء کے آخر تک وعدہ کنندگان کو اپنے وعدوں کا ۳ ا ضرور ادا کر دینا چاہئے یہ بھی ان کی طرف سے وعدہ ہے کہ ہم اس کا ۱٫۲ حصہ پہلے سال میں ادا کر دیں گے اور ۱/۳ حصہ دوسرے سال میں ادا کر دیں گے اور ۱٫۳ تیسرے سال میں ادا کر دیں گے جہاں جماعت اتنی قربانیاں مالی میدان میں پہلے ہی دے رہی تھی وہاں چند مہینوں کے اندر چونتیس لاکھ روپیہ سے اوپر کے وعدے کر چکی ہے اور سات لاکھ روپیہ سے اوپر رقوم کی وصولی اس محبت کی نشان دہی کر رہی ہے جو محبت کہ جماعت کے دلوں میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے اور جو محبت حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جماعت کے دلوں میں اپنے خدا اور اس کے دین کے لئے پیدا کی ہے اتنی قربانیاں اللہ تعالیٰ کے فرشتے جب تک آسمان سے نازل نہ ہوں اور دلوں میں تحریک نہ کریں ایسی قربانی کوئی جماعت یا کوئی فرد نہیں دے سکتا پس خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ جس نے محض اپنے احسان سے جماعت کو یہ توفیق اور یہ موقع عطا کیا ہے کہ وہ اپنے تقویٰ کے معیار کو ظاہری تقوی ( دلوں کا تقویٰ تو خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے ) اور اپنی قربانی اور اپنے ایثار کے معیار کو بلند تر کرتی چلی جارہی ہے اور جو جماعت اور جو قوم اور جو سلسلہ قربانیوں کے میدان میں تیزی سے چل رہا ہو نہیں بلکہ دوڑ رہا ہو دُنیا کی وہ کون سی طاقت ہے جو اس کو ہلاک کر سکے اور تباہ کر سکے۔کوئی نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سایہ اس جماعت پر ہوتا ہے اور فرشتے اس کی مدد کے لئے ہر وقت اس تعداد سے زیادہ تعداد میں اندراس سے زیادہ مؤثر طریق پر آسمان پر منڈلا رہے ہوتے ہیں جس تعداد اور جس طریق پر امریکہ۔ہوائی جہاز اپنی فوجوں کی مدد کے لئے آج ویٹ نام میں ہوا میں منڈلا رہے ہیں۔غذائی بحران اور جماعت احمدیہ کا فرض ۷ار دسمبر ۱۹۶۵ء کو میں نے اپنے ایک خطبہ جمعہ ( مطبوعہ الفضل۔ار مارچ ۱۹۶۶ ء ) میں یہ