خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 128 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 128

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۲۸ ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطا۔میں آکر کہتے ہیں اپنے بچوں کو کہ ”لو منڈیو سنبھالو ساڈا کم ہن اسیں فارغ ہنے آں پیشہ ور دوکاندار بھی اس سکیم میں حصہ لے سکتے ہیں کیونکہ وہ بھی ایک وقت کے بعد اپنے کام سے فارغ ہو جاتے ہیں اور بجائے اس کے کہ وہ یہ کہیں کہ لومنڈ یو اپنا کام سنبھال لو ہم فارغ ہوتے ہیں۔تو بجائے اس سے کہ وہ یہ کہیں کہ اپنا کام سنبھا لو اب ہم فارغ ہوتے ہیں وہ یہ کہیں کہ سنبھا لو اپنا کام ہم دین کا جا کر کام کریں ایسے لوگ بھی ہیں خالی ملازمت پیشہ ہیں۔پس ملازمت پیشہ احباب کے علاوہ پیشہ ور دو کا ندار دوست بھی اس سکیم میں حصہ لے سکتے ہیں اور ہم انشاء اللہ یکم مئی ۱۹۶۷ء تک با قاعدہ نصاب مقرر کر کے ان کو تعلیم دینا شروع کر دیں گے اور جو تربیت والا حصہ ہے اور تعلیم کے جو بعض مخصوص حصے بھی ہوتے ہیں وہ فارغ ہونے کے بعد دو ایک مہینے میں یہاں حاصل کرلیں گے اور فور امیدانِ عمل میں ان کو بھیجا جا سکے گا۔ے: فضل عمر فاؤنڈیشن گزشتہ جلسہ سالانہ کے موقع پر مکرم و محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے میری اجازت سے اس اسٹیج سے اس تحریک کا اعلان کیا تھا۔جنوری فروری ۱۹۶۶ء تک قواعد وضوابط مرتب کرنے کا کام ہوا اور یہ رجسٹر ڈ باڈی ہے اس کی رجسٹریشن وغیرہ کروائی گئی اور اس پر وقت لگا عملا گزشتہ مشاورت کے موقع پر اس کا کام شروع کیا گیا اور اخبار الفضل میں اور دوسرے ذرائع سے جماعتوں کو اور افراد جماعت کو اس کی اطلاع دی گئی اسی طرح اس کے جو کارکن ہیں انہوں نے پاکستان کی بڑی جماعتوں کا دورہ کیا۔قواعد کے مطابق فضل عمر فاؤنڈیشن کا ایک بورڈ آف ڈائریکٹر مقرر کیا گیا جس کے صدر مکرم محترم مخدومی چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ہیں اس کے نائب صدر مكرم محترم کرنل عطاء اللہ صاحب اور جس کے سیکرٹری مکرم محترم مخدومی شیخ مبارک احمد صاحب ہیں۔اس بورڈ کے ممبران تحریک جدید کی طرف سے صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے صاحبزادہ سید داؤ د احمد صاحب۔وقف جدید کی طرف سے مکرم محترم مخدومی شیخ محمد احمد صاحب اور عام جماعتوں کی طرف سے مکرم محترم مخدومی شیخ محمد حنیف صاحب اور چوہدری احمد جان صاحب اور میر بخش صاحب اور چوہدری انور احمد صاحب کا ہلوں ممبر ہیں۔کل نو ڈائریکٹر ہیں۔