خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 121
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۲۱ ۲۷ / جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطاب مربی بعض جماعتوں کے صحیح حالات ہمیں پہنچاتے تھے اس خیال سے کہ پھر ہم پر بھی الزام آئے گا کہ جو کمزوریاں پیدا ہو رہی ہیں تم ان کے ذمہ وار ہو۔کیوں تم نے اس طرف توجہ نہیں کی تو بہت سی باتیں مرکز کے علم میں نہیں لائی جا رہی تھیں اور ایک جماعت کے متعلق تو اس حد تک غفلت برتی گئی تھی کہ اگر اللہ تعالی ( شاید انہی کے لئے یہ سکیم جاری کی گئی تھی ) وقف عارضی کے وفود وہاں بھجوانے کا انتظام نہ کرتا تو بالکل خاموشی کے ساتھ وہ جماعت مرجاتی۔شاید ایسی جماعت کے لئے وقف عارضی کی سکیم جاری کی گئی ہو بہر حال عین وقت کے اوپر وقف عارضی کے وفود پہنچنے شروع ہوئے اور جماعت میں ایک نئی زندگی پیدا ہونی شروع ہوگئی۔دراصل یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہماری غفلتوں کے باوجود محض اس کے فضل اور اس کے رحم سے کوئی جماعت بھی مردہ نہیں ہوئی ہاں غافل ہو چکی ہیں بعض سوئی ہوئی ہیں جیسا کہ میں نے پہلے بھی ایک دفعہ بتایا تھا ہمارے ایک بڑے ہی سمجھدار اور بڑی عمر کے دوست ہیں جب میں نے انہیں ایک جگہ بھجوایا تو پہلے ہفتہ کی رپورٹ میں بڑی وضاحت سے انہوں نے یہ لکھا کہ مجھے بڑا دکھ ہوتا ہے کہ اتنی بڑی جماعت ہے کئی سواحمد یوں کی جماعت ہے لیکن ہے مردہ کوئی امید نہیں ہے کہ ان میں زندگی پیدا ہو سکے لیکن چونکہ آپ کا حکم ہے یہاں بیٹھا ہوں ویسے کوئی فائدہ نہیں ہونا۔دوسرے ہفتہ جور پورٹ اُنہوں نے بھیجی اس میں بھی اُنہوں نے لکھا کہ مجھے بڑی تشویش ہوئی ہے اور میں نے دعائیں بھی کی ہیں لیکن اس جماعت کی اصلاح نہیں ہو سکتی لیکن تیسرے ہفتہ کی رپورٹ جو ان کی طرف سے ملی وہ یہ تھی کہ میں نے پہلے دو ہفتوں میں جو رپورٹیں بھیجی ہیں وہ غلط تھیں۔یہ جماعت مردہ نہیں ہوئی بلکہ سوئی ہوئی ہے اور اُمید ہے کہ جگانے سے یہ جاگ اُٹھیں گے اور بعد کی ایک رپورٹ میں اُنہوں نے یہ لکھا کہ ایک ۷۵ سال کی بڑھیا عورت ہے جس کی نظر بھی بڑی کمزور ہے وہ ایک بڑا قرآن ( بعض قرآن کریم بڑی تقطیع پر کمزور نظر والوں کے لئے شائع ہوئے ہیں) لے کر مسجد میں آتی ہے اور اس نے قرآن کریم پڑھنا شروع کر دیا ہے غرض اس جماعت کی تو یہ حالت تھی کہ وہ دوست ایک وقت تک اس سے مایوس ہو چکے تھے وہ سمجھتے تھے کہ اب یہ مر چکے بالکل اُنہوں نے زندہ ہی نہیں ہونا اور پھر وہ تعریف کرنے لگے اور کہنے لگے کہ عورتیں بوڑھیاں اُدھیڑ عمر کی جوان اور بوڑھے مرد انہوں نے آہستہ آہستہ قرآن پڑھنے کی طرف