مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 90 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 90

۔ہے غلبہ کا ہے۔چنانچہ اب دشمن بڑی شدت کے مشتعل ہو چکا ہے اور وہ ہمارے مٹانے کے منصوبے بنا رہا ہے اس لئے اگر کوئی یہ کہے کہ ہمیں ذرا دھیما ہو جانا چاہیے۔ہمیں اپنی کوششوں کو کچھ ست کر دینا چاہیے تو ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم نے یہ بات سوچی تو تم مشرک ہو جاؤ گے۔تمہارا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہے گا۔تم وہ امت واحدہ نہیں رہو گے جو توحید کے نتیجہ میں وجود میں آتی ہے۔پس میں جماعت کو اچھی طرح متنبہ کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات گزری ہو کہ تبلیغ کے نتیجہ میں خطرات پیدا ہو رہے ہیں اس لئے ہمیں تبلیغ میں کمی پیداکر دینی چاہئے تو یہ مشرکانہ خیال اس کو دل سے نکال دیں ورنہ اس کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہے گا وہ شجر توحید سے کاٹا جائے گا جو یہ خوف اپنے دل میں پیدا کرتا ہے۔یاد رکھیں صرف اللہ پر ہمارا تو کل ہے اور وہ ہمارے لئے کافی ہے۔وہ ہمیشہ ہمارے لئے کافی رہا ہے اور کبھی بھی اس نے ہمیں خوف کی حالت میں اکیلے نہیں چھوڑا۔وہ سب وفاؤں سے بڑھ کر وفا دار خدا ہے۔ہم نے اس سے بے وفائی نہیں کرنی۔ایک ایک بچے کے لئے بھی اگر کاٹے جانی کا خوف ہمارے سامنے ظاہر ہو جائے اور ہر طرف سے بھیانک شکلیں ہمیں ڈرانے کے لئے ابھر آئیں اور بظاہر ہر طرف اندھیرے پھیل جائیں تب بھی ہم نے ثبات قدم دکھانا ہے۔ایک قدم پیچھے نہیں ہٹنا۔ایک قدم رکنا نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ بڑھ کر اللہ پر توکل کرتے ہوئے ہر میدان میں آگے بڑھنا ہے۔یہ عہد کر کے آج آپ نے واپس جانا ہے اور اس روح کو جماعتوں میں پھیلانا ہے اور اس روح کے مبلغ بن جانا ہے کیونکہ خلافت کا یہ خلاصہ ہے جو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔دوسرا پہلو ہے چندوں میں اضافہ یہ بھی تکلیف کا موجب بن رہا ہے یعنی اَنفُس میں خدا کی طرف سے جو تمکین نصیب ہو رہی ہے اور برکت مل رہی ہے اس کے نتیجہ میں بھی حسد کی ایک آگ لگ گئی ہے اور وہ کہتے ہیں یہ کیوں بڑھ رہے ہیں اور آپ کیوں زیادہ مالی قربانی کر رہے ہیں۔مالی قربانی میں اضافہ کے نتیجہ میں بھی حسد کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔بھٹی چندہ ہم دیتے ہیں۔ہم اپنی جائز کمائی میں سے خدا کے حضور ادا کرتے ہیں اس میں آپ کو تکلیف کیا ہے۔اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ جماعت چندے اکٹھے کر رہی ہے تو یہ تو ایک کھلی دوڑ ہے۔قرآن کریم نے جو دوڑ بتائی ہے وہ تو نیکیوں کی دوڑ ہے تم بھی اس میں آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔تمہیں ہمارے چندے سے کیا تکلیف ہے۔عقلی نتیجہ تو یہی نکلتا ہے کہ نہیں ہونی چاہئے بلکہ ان کو تو خوش ہونا چاہیے بڑے بیوقوف لوگ ہیں۔اپنے اموال محنت سے کماتے ہیں لیکن ان کے نزدیک جو غلط مقصد ہے اس میں ضائع کر رہے ہیں۔اگر وہ واقعہ یہ سمجھتے ہیں کہ اموال ضائع ہو رہے ہیں تو ان کو تو اس پر بڑی خوشی ہونی چاہیے کہ لو جی اور زیادہ بیوقوف ہو گئے اب پہلے سے بھی زیادہ بڑھ کر بیوقوف ہو گئے۔پہلے تھوڑا چندہ دیا کرتے تھے اب زیادہ چندہ جھونک رہے اس مقصد کیلئے جسے وہ احمقانہ مقصد سمجھتے ہیں۔لیکن ان کا دل کچھ اور گواہی دے رہا ہے ان کا دل بتا رہا ہے کہ یہ ایک با مقصد جماعت ہے ان کا ہر روپیہ ایک اعلیٰ مقصد کیلئے استعمال ہو رہا ہے جو ان کے لئے مزید تمکنت کے سامان پیدا کر رہا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے جو نتیجہ نکالا وہ کتنا درست ہے۔اور اسی طرح اس آیت کی ترتیب ہونی چاہیے کہ تمہارے اعمال صالح کو خدا قبول فرمائے گا اور تمہاری جانوں میں بھی برکت دے گا اور تمہارے اموال میں بھی برکت دے گا اور ہر برکت کے نتیجہ میں تمہیں خوف کے حالات پیدا ہوتے دکھائی دیں گے لیکن خدا فرماتا ہے کہ اس وقت ہم تمہیں یہ نصیحت کرتے ہیں کہ تم نے شرک بالکل نہیں کرنا۔ہم پر توکل رکھنا ہے صرف ہماری عبادت کرنی ہے پھر دیکھنا کہ خدا کس طرح تمہارے ہر خوف کو امن میں تبدیل کرتا چلا جائے گا۔پس چندوں کے نظام میں بھی خدا تعالیٰ نے جو برکت عطا فرمائی 90