مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 78 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 78

78 (الحکم 2 اپریل 1908ء صفحہ 4) ارشاد سید نا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ : خلیفہ تو خود مجدد سے بڑا ہوتا ہے اور اس کا کام ہی احکام شریعت کو نافذ کرنا اور دین کو قائم کرنا ہوتا ہے پھر اس کی موجودگی میں مجدد کس طرح آسکتا ہے؟ مجدد تو اس وقت آیا کرتا ہے جب دین میں بگاڑ پیدا ہو جائے۔“ ارشاد سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ: مجلس عرفان سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ۔الفضل 8 اپریل 1947 ء) پہلے سلسلۂ خلافت کی ایک شاخ تو جو بعد نبی مقبول صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ خلفا و مجددین پر مشتمل تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ختم ہو گئی۔اگلی صدی کے مجدد کی ہر ایک کو تلاش کرنی چاہئے لیکن ہر آنے والی صدی کے سر پر جو شخص مجدد کی تلاش میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو آخری ہزار سال کے مجدد ہیں) کے علاوہ کوئی ایسا چہرہ دیکھتا ہے جو آپ علیہ السلام کے خلیفہ کا نہیں، آپ علیہ السلام کے ظل کا نہیں وہ سچے مجدد کا چہرہ نہیں دیکھتا لیکن پہلے سلسلۂ خلافت کی دوسری شاخ اور وہ بھی خلافت راشدہ کا حصہ ہے، حضرت مسیح موعود علیہ کے اظلال کی شکل میں جاری ہے۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں تم ایمان کی اور اعمال صالحہ کی شرط پوری کرتے رہنا تمہیں قدرت ثانیہ کے مظاہر یعنی خلافت راشدہ کا اللہ تعالیٰ قیامت تک وعدہ دیتا ہے۔خدا کرے کہ محض اسی کے فضل سے جماعت عقائد صحیحہ اور پختہ ایمان اور طیب اعمال کے اوپر قائم رہے تا کہ اس کا یہ وعدہ قیامت تک جماعت کے حق میں پورا ہوتا رہے۔السلام۔66 اختتامی خطاب سالانہ اجتماع انصار اللہ 27 اکتوبر 1968ء۔ماہنامہ انصار اللہ ربوہ فروری 1969ء) ارشاد حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی: حضرت خلیفة أسبح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ 27 اگست 1993ء میں فرمایا : دو میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ ایسے لوگ اگر سو سال کی عمریں بھی پائیں گے اور مر جائیں تو نامرادی کی حالت میں مریں گے اور کسی مجدد کا منہ نہیں دیکھیں گے۔ان کی اولادیں بھی لمبی عمر میں پائیں اور مرتی چلی جائیں اور ان کی اولادیں بھی لمبی عمریں پائیں اور مرتی چلیں جائیں، خدا کی قسم ! خلافت احمدیہ کے سوا کہیں اور مجددیت کا منہ نہ دیکھیں گی۔یہی وہ تجدید دین کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے جو ہر صدی کے سر پر ہمیشہ جماعت کی ضرورتوں کو پورا کرتا چلا جائے گا۔“ (ماہنامہ خالد مئی 1994 ، صفحہ نمبر 4 و 17)