مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 68
نہ تھا کہ سچی اور پاک معرفت اس کی حاصل ہو سکے چہ جائیکہ اس کے رسولوں کی معرفت اور اس کی کتاب کی معرفت حاصل ہو اس لئے رحمانیت الہی نے تقاضا کیا کہ اندھی اور نابینا مخلوق کی بہت ہی مدد کی جائے اور صرف اس پر اکتفا نہ کیا جائے کہ ایک مرتبہ رسول اور کتاب بھیج کر پھر باوجود امتداد ازمنہ طویلہ کے ان عقائد کے انکار کی وجہ سے جن کو بعد میں آنے والے زیادہ اس سے سمجھ نہیں سکتے کہ وہ ایک پاک اور عمدہ منقولات ہیں ہمیشہ کی جہنم میں منکروں کو ڈال دیا جائے اور حقیقت سوچنے والے کے لئے یہ بات نہایت صاف اور روشن ہے کہ وہ خدا جس کا نام رحمان اور رحیم ہے اتنی بڑی سزا دینے کے لئے کیونکر یہ قانون اختیار کر سکتا ہے کہ بغیر پورے طور پر اتمام حجت کے مختلف بلاد کے ایسے لوگوں کو جنہوں نے صدہا برسوں کے بعد قرآن کریم اور رسول کا نام سنا! پھر وہ عربی سمجھ نہیں سکتے ، قرآن کریم کی خوبیوں کو دیکھ نہیں سکتے دائمی جہنم میں ڈال دے؟ اور کس انسان کی کانشنس (conscious) اس بات کو قبول کرسکتی ہے کہ بغیر اس کے کہ قرآن کریم کا مِنْ جَانِبِ اللهِ ہونا اس پر ثابت کیا جائے یونہی اس پر چھری پھیر دی جائے پس یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے دائگی خلیفوں کا وعدہ دیا تا وہ ظلی طور پر انوار نبوت پا کر دنیا کو ملزم کریں اور قرآن کریم کی خوبیاں اور اس کی پاک برکات لوگوں کو دکھلاویں۔“ اُمت محمدیہ کے لئے دائمی خلافت کا وعدہ: (شهادة القرآن روحانی خزائن جلد 6۔صفحہ 340 تا 342) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: دوم جس طرح پر عقل اس بات کو واجب اور مختم ٹھہراتی ہے کہ کتب الہی کی دائی تعلیم اور تفہیم کے لئے ضروری ہے کہ ہمیشہ انبیاء کی طرح وقتاً فوقتاً ملہم اور مکلم اور صاحب علم لدنی پیدا ہوتے رہیں اسی طرح جب ہم قرآن کریم پر نظر ڈالتے ہیں اور غور کی نگہ سے اس کو دیکھتے ہیں تو وہ بھی بآواز بلند یہی فرما رہا ہے کہ روحانی معلموں کا ہمیشہ کیلئے ہونا اس کے ارادہ قدیم میں مقرر ہو چکا ہے دیکھو اللہ جَلَّ شَأْنُهُ فرماتا ہے: وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ فِي الْأَرْضِ - سُوْرَةُ الرَّعْدُ : 18 ) یعنی جو چیز انسانوں کو نفع نقصان پہنچاتی ہے وہ زمین پر باقی رہتی ہے اب ظاہر ہے کہ دنیا میں زیادہ تر انسانوں کو نفع پہنچانے والے گروہ انبیاء ہیں کہ جو خوارق سے، معجزات سے، پیشگوئیوں سے، حقائق سے، معارف سے، اپنی راست بازی کے نمونہ سے انسانوں کے ایمان کو قوی کرتے ہیں اور حق کے طالبوں کو دینی نفع پہنچاتے ہیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ دنیا میں کچھ بہت مدت تک نہیں رہتے بلکہ تھوڑی سی زندگی بسر کر کے اس عالم سے اٹھائے جاتے ہیں لیکن آیت کے مضمون میں خلاف نہیں اور ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ کا کلام خلاف واقع ہو۔پس انبیاء کی طرف نسبت دے کر معنی آیت کے یوں ہوں گے کہ انبیاء مِنْ حَيْثِ الظُّلُ باقی رکھے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ ظلی طور پر ہر یک ضرورت کے وقت میں کسی اپنے بندہ کو ان کی نظیر اور مثیل پیدا کر دیتا ہے جو انہیں کے رنگ میں ہو کر ان کی دائمی زندگی کا موجب ہوتا ہے اور اسی ظلمی وجود قائم رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ دعا سکھائی ہے اهدِنا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (سورة الفاتحة : 7,6) یعنی اے خدا ہمارے! ہمیں وہ سیدھی راہ دکھا جو تیرے ان بندوں کی راہ ہے جن پر تیرا انعام ہے اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کا انعام جو انبیاء پر ہوا تھا جس کے مانگنے کے لئے اس دعا میں حکم ہے اور وہ درم اور دینار کی قسم میں سے نہیں بلکہ وہ انوار اور برکات 68