مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 576 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 576

با قاعدہ عہد یدار منتخب کرنے اور پھر ان کے کام کی نگرانی کرنے کا انتظام فرمایا جس کی وجہ سے جماعت ہر لحاظ سے منظم ہو کر کام کرنے لگی۔جماعت کی تربیت کے لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے 1922 ء میں احمدی عورتوں کی تنظیم لجنہ اماء اللہ قائم فرمائی۔پھر 1926ء میں ان کے لئے ایک علیحدہ رسالہ ”مصباح“ کے نام سے جاری فرمایا۔1928ء میں ”نصرت گرلز ہائی سکول قائم کیا اور 1951ء میں بمقام ربوہ جامعہ نصرت قائم کیا جس میں احمدی بچیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکتی ہیں۔ان اداروں میں دینی تعلیم کا انتظام فرمایا۔1938ء میں حضور نے احمدی نوجوانوں کی تنظیم خدام الاحمدیہ کی بنیاد رکھی نیز احمدی بچوں کے لئے اطفال الاحمدیہ اور بچیوں کے لئے ”ناصرات الاحمدیہ" کی تنظیم قائم کی اور چالیس سال سے اوپر کی عمر کے احمدیوں کو منظم کرنے کے لئے مجلس ”انصار اللہ قائم کی۔ان تنظیموں نے جماعت کی تعلیم و تربیت میں بہت اہم حصہ لیا اور رہتی دنیا تک کرتی رہیں گی۔ان کے وجہ سے جماعت احمدیہ کا کام کرنے کے لئے ہزاروں کارکنوں کی ٹریننگ ہوئی اور انہوں نے اپنے اپنے وقت پر جماعت کی نمایاں خدمت میں حصہ لیا۔1922 ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے مجلس مشاورت کا نظام جماعت میں قائم فرمایا۔سال میں ایک دفعہ خلیفہ وقت کے حکم سے تمام احمدی جماعتوں کے نمائندے جنہیں وہ جماعتیں خود منتخب کرتی ہیں مرکز میں جمع ہوتے ہیں اور جماعت کے متعلق جو معاملات خلیفہ وقت کی خدمت اقدس میں مشورہ کے لئے پیش کئے جائیں ان کے متعلق یہ نمائندے اپنی رائے اور مشورے پیش کرتے ہیں۔خلیفہ وقت ان مشوروں میں سے جو بھی مناسب سمجھتے ہیں انہیں منظور کر لیتے ہیں اس طرح ساری جماعت کو جماعت کے معاملات کو سمجھنے اور مشورہ دینے کا موقع ملتا ہے۔بعض اوقات جماعت کے لوگوں میں آپس میں جو شکر رنجیاں پیدا ہو جاتی ہیں ان کا فیصلہ کرنے کیلئے حضور نے 1925ء میں محکمہ قضا قائم کیا جو کہ قرآن کریم کے حکموں اور دینی تعلیم کے مطابق تمام جھگڑوں کا فیصلہ کر دیتا ہے اور احمدیوں کو عدالتوں میں اپنے مقدمے لے جانے نہیں پڑتے۔( الفضل 16 فروری 2006ء) خلافت ثانیہ کی بابرکت تحریکات میں سے ایک تحریک جدید ہے جسے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے1934ء میں جاری فرمایا تھا۔اس تحریک میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے 27 مطالبے جماعت کے سامنے رکھے۔ان مطالبات میں مطالبات بھی شامل تھے۔☆ دعوت حق کے لئے نوجوان اپنی زندگیاں وقف کریں۔رو احمدی مالی قربانی میں حصہ لیں۔جس کے ذریعہ دین حق کی بیرونی ممالک میں اشاعت کی جائے۔یہ تحریک بہت ہی با برکت ثابت ہوئی۔اس کی وجہ سے دنیا کے بہت سارے ممالک میں جماعت کے مشن قائم ہوئے۔ہزاروں لوگوں نے دین حق قبول کیا۔کئی زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم شائع ہوئے۔جماعت میں قربانی اور اخلاص کی لہر پیدا ہو گئی۔دوسری تحریک 1957ء میں وقف جدید کے نام سے جاری فرمائی۔یہ تحریک حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ملک کے دیہاتی علاقوں میں لوگوں تک پیغام حق پہنچانے اور ان کی تعلیم و تربیت کرنے کے لئے جاری فرمائی۔اس تحریک کے ماتحت حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے کم تعلیم یافتہ احمدی نوجوانوں کو تحریک فرمائی کہ وہ دیہات میں رہ کر لوگوں کو دعوت الی اللہ کرنے اور ان کی تعلیم و تربیت کرنے کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔چنانچہ بہت سے نوجوانوں نے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔یہ تحریک خدا کے فضل سے بہت کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے۔(الفضل 24 مئی 2006ء) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو زمین کے کناروں تک پہنچانے کے لئے دن رات ایک کر دیا۔دعوت 576