مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 566
لحاظ سے اتنی اعلیٰ درجہ کی ہے کہ کئی غیر از جماعت علما نے بھی اس کی تعریف کی ہے۔کئی لوگ اسے پڑھ کر ہی احمدی ہوگئے۔پھر حضور رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کا اردو زبان میں سلیس، سادہ اور بامحاورہ ترجمہ بھی کیا اور اس کے ساتھ ضروری مقامات پر تفسیری نوٹ بھی لکھے۔یہ ترجمہ سب سے پہلے 1957ء میں تفسیر صغیر کے نام سے شائع ہوا۔اسے اپنوں اور غیروں میں غیر معمولی مقبولیت حاصل ہے۔جماعت کی تربیت کے لئے دوسرا ذریعہ حضور رضی اللہ عنہ نے خطبات و تقاریر کا اختیار کیا۔قریباًہر دینی مسئلہ پر اور تربیت کے ہر پہلو پر حضور رضی اللہ عنہ نے تقاریر فرمائیں اور خطبات دیئے۔یہ خطبات و تقاریر بہت ہی پراثر ہیں جو انوار العلوم اور خطبات محمود کے عنوان سے شائع ہو رہے ہیں۔(الفضل 24 مئی 2006ء) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا ابتدائے خلافت سے یہ دستور رہا ہے کہ حضور رضی اللہ عنہ جلسہ سالانہ کے موقع پر ہمیشہ ایک خالص علمی موضوع پر تقریر فرمایا کرتے ہیں۔چنانچہ 1928ء کے جلسہ پر حضور رضی اللہ عنہ نے ”فضائل القرآن“ کے عنوان پر ایک اہم سلسلہ تقاریر کا آغاز فرمایا جو 1933 ء تا1935ء کو مستثنیٰ کر کے 1936ء کے جلسہ تک جاری رہا۔حضور رضی اللہ عنہ کا منشا مبارک دراصل یہ تھا کہ قرآن کریم کی فضیلت سے متعلق سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے براہین احمدیہ میں جو تین سو دلائل لکھنے کا وعدہ فرمایا تھا وہ اگر چہ حضور رضی اللہ عنہ ہی کی دوسری تصنیفات میں پایہ تکمیل تک پہنچ گیا مگر وہ ظاہری طور پر بھی پورا کر دیا جائے مگر مشیت ایزدی کے مطابق صرف چھ لیکچر ہو سکے۔فضائل القرآن کے لیکچروں کے اس بیش بہا مجموعہ میں جو 444 صفحات پر م ہے حضور رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کے دوسرے مذاہب کی الہامی کتابوں پر فضیلت کے متعدد دلائل دیئے ہیں اور قرآن مجید کے بہت سے مشکل مقامات کو نہایت خوبی اور نفاست سے حل کیا ہے اور مستشرقین کے اعتراضات کا ایسے مؤثر رنگ میں جواب دیا ہے کہ انسان عش عش کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔مشتمل ؟ اس سلسلہ کی چھٹی تقریر حضور رضی اللہ عنہ کے ایک ایسے چیلنج پر ختم ہوئی جس کو قبول کرنے کی جرأت آج تک کسی غیر مسلم مفکر کو نہیں ہوئی۔پینج کے الفاظ یہ ہیں: قرآن کریم کو وہ عظمت حاصل ہے جو دنیا کی کسی اور کتاب کو حاصل نہیں اور اگر کسی کا یہ دعوی ہو کہ اس کی مذہبی کتاب بھی اس فضیلت کی حامل ہے تو میں چیلنج دیتا ہوں کہ وہ میرے سامنے آئے۔اگر کوئی وید کا پیرو ہے تو میرے سامنے آئے۔اگر کوئی توریت کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے آئے، اگر کوئی انجیل کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے آئے اور قرآن کریم کا کوئی استعارہ میرے سامنے رکھ دے جس کو میں استعارہ سمجھوں پھر میں اس کا حل قرآن کریم سے ہی پیش نہ کر دوں تو وہ بے شک مجھے اس دعوی میں جھوٹا سمجھے لیکن اگر پیش کر دوں تو اسے ماننا پڑے گا کہ واقعہ میں قرآن کریم کے سوا دنیا کی کوئی اور کتاب اس خصوصیت کی حامل نہیں۔“ تاریخ احمدیت جلد نمبر 5 صفحہ 96-95) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کے درس و تدریس سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضور کو ناسازی طبع کے باوجود بہت محنت و مشقت کرنا پڑتی۔درس القرآن کو علمی اور تحقیقی پہلو سے مکمل کرنے کے لئے حضور گرمی کے تکلیف دہ موسم میں رات کے بارہ بارہ بجے تک کتب کا مطالعہ کر کے نوٹ تیار کرنے میں مصروف رہتے اور پھر دن میں سلسلہ کے اہم اور ضروری معاملات کی سرانجام دہی کے علاوہ روزانہ چار پانچ گھنٹہ تک سینکڑوں کے اجتماع میں بلند آواز سے درس دیتے۔جس قدر وقت میسر آسکا اسے کلام اللہ پر غور کرنے اور اس کے حقائق و معارف بیان کرنے میں مصروف فرماتے۔تاریخ احمدیت جلد 5 صفحہ 59) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی قرآن مجید سے محبت اور اس کے علم کی غیروں نے بھی داد دی۔چنانچہ مولانا ظفر علی 566