مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 565 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 565

براه راست مستفیض نہیں ہوئے۔غیروں کے تراجم اور حواشی رہ جائیں گے اور پھر جو اناپ شناپ لکھا ہوا ہو گا اسی پر دارومدار ہو گا اور پھر بعد از وقت اعتراضوں کو دیکھ کر ادھر ادھر کے جوابوں کی سوجھے گی۔(دیباچہ جلد ہذا صفحه 47) حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ رضی اللہ عنہ نے حضرت خلیفہ لمسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ارشاد کی تعمیل میں صحیح بخاری کے ترجمہ اور شرح پر کام شروع کر دیا لیکن 1926 ء سے 1947ء تک کا عرصہ جماعت احمدیہ کا انتہائی ہنگامہ خیز دور تھا۔قیام پاکستان کے بعد اس کی اشاعت کا کام اداراۃ المصنفین کے سپرد ہوا جس کے منیجنگ ڈائریکٹر حضرت مولانا ابو المنیر نور الحق صاحب فاضل تھے۔چنانچہ آپ کی نگرانی میں 1960ء سے 1976 ء تک کے سولہ سالوں میں صحیح بخاری کے ترجمہ اور شرح کے پندرہ پاروں تک کی اشاعت ہوئی۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی وفات 16 مئی 1967 ء تک 19 پاروں کے ترجمہ اور شرح کا کام مکمل کر لیا تھا اور اگلے پاروں کا ترجمہ کا ترجمہ بھی مکمل کر لیا تھا۔آپ رضی اللہ عنہ کی وفات پر اس کی اشاعت حضرت مولوی ابوالمنیر نور الحق صاحب کے سپرد ہوئی۔1983 ء میں بعض حالات کی بنا پر ادارۃ المصنفین کو بند کرنا پڑا اور حضرت خلیفۃ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے بخاری کا زیر تکمیل کام نظارت اشاعت کے سپرد فرمایا۔نظارت کے زیر اہتمام حضرت مولوی ابو المنیر نور الحق صاحب نے اگلے پاروں کا کام جاری رکھا۔مولوی صاحب کی وفات کے بعد نظارت اشاعت کی درخواست پر ناظر اعلیٰ صاحب صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب نے 2002ء میں یہ سارا کام مولانا شبیر احمد صاحب ثاقب صدر شعبہ حدیث جامعہ احمدیہ ربوہ کے سپرد فرمایا۔المسيح 2005ء میں حضرت خلیفۃ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے علم حدیث کی ترویج اور اشاعت کے لئے حضرت حاجی الحرمین حضرت خلیفہ امسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے نام پر نور فاؤنڈیشن قائم فرمائی ہے جو صحاح ستہ یعنی صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ نیز مسند احمد تحسنبل کا پہلے مرحلہ میں اردو میں ترجمہ کرے گی۔ا (پیش لفظ صحیح البخاری - صفحہ 6-5) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود اخبار الفضل قادیان جیسا بلند پایه اخبار اپنی منفرد ذاتی کوششوں سے 18 جون 1913ء کو جاری فرمایا جس میں ”تاریخ اسلام ایک مستقل کالم کا اجرا بھی کیا۔یہ کالم جو بخاری کی مستند احادیث کی شرح کی روشنی میں آپ رضی اللہ عنہ کے قلم مبارک سے نکلا۔اُنیسویں صدی میں عشاق رسول کیلئے اپنی نوعیت کا منفرد اسلوب و انداز کا حامل تھا۔یہ کلام احمد کے گلشن کی نئی بہار تھی جس نے قلوب و اذہان کو معطر کر دیا اور رگ رگ میں عشق نبوی کی شمعیں روشن کر دیں۔خصوصاً نوجوانان احمدیت کو احادیث کی معرفت کا ایک ایسا شعور بخشا جس کی یاد مدتوں تک تازہ رہے گی۔علم و عرفان کا یہی بیش بہا خزانہ ہے جسے حضور رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں پہلی بار یکم دسمبر 1924 ء کو شائع کر دیا گیا اور قادیان اور ربوہ سے اس کے متعدد ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔خلات اور خدمت قرآن کریم: ( الفضل 24 مئی 2006 ء ) فیضان خلافت کا ایک نہایت روشن پہلو خدمت قرآن خلفائے احمدیت نے قرآن مجید کی محبت دلوں میں اُجاگر کی ہے۔اور اس کا علم سیکھنے اور سیکھانے کے لئے مختلف ذرائع اختیار کیے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مردوں اور عورتوں میں الگ الگ قرآن مجید کا درس دینا شروع کیا جو بعد میں کتابی شکل میں تفسیر کبیر کے نام سے شائع ہو گیا۔یہ تفسیر علمی اور تربیتی 565