مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 556 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 556

سیرالیون کے ایک احمدی الحاج باسعیدو بنگورا (Alhaj Pa Saidu Bangura) نماز باجماعت کے علاوہ تہجد۔پہلے گزاری میں بھی ایک نمونہ تھے۔باوجود گھر دور ہونے کے صبح کی نماز سے پہلے بیت الذکر پہنچ کر نماز کے لئے ایسی بلند اور سریلی اذان بلند کرتے کہ سارا علاقہ گونج اٹھتا اور ان کا نام بلال احمدیت (روح پرور یا دیں صفحہ 515) مشہور ہو گیا تھا۔سویڈن (Sweden) کے ایک نو احمدی محمود ارکسن کو جب ضروری فوجی تعلیم کے لئے فوج میں داخل ہونا پڑا تو انہوں نے براہِ راست بادشاہ سے نماز کو صحیح اوقات پر ادا کرنے کی رخصت کی درخواست کی جسے منظور کر لیا گیا۔یہ سویڈن کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔تاریخ احمدیت جلد 18 صفحہ 485) مکرم غلام احمد چشتی معلم وقف جدید، وقف سے پہلے فوج میں تھے۔دوسری جنگ عظیم میں شرکت کی۔جنگ کے اختتام پر آپ کو فارغ کر دیا گیا اور ان کے افسر نے لکھا کہ اس نوجوان کے دماغ میں کوئی عارضہ ہے جس کی وجہ سے یہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر عبادت کرتا ہے اور روتا ہے۔الفضل ربوہ 30 ستمبر 2000ء صفحہ 7) انگلستان میں ایک پرانے احمدی بلال مثل صاحب جب احمدی ہوئے تو انہوں نے اپنے لئے بلال‘ نام انتخاب کیا اور پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہی کے تتبع میں انہوں نے نماز کی خاطر اذان دینے میں ایک خاص نام ا کیا۔انہیں سچ مچ نماز کیلئے بلانے کا از حد شوق تھا۔الفضل 28 جون 2003ء) یورپ کے خوش نصیب واقفین زندگی میں ایک بشیر احمد آرچرڈ مربی گلاسگو (Glasgow) تھے۔آپ 1944ء میں احمدیت میں داخل ہوئے اور قادیان میں کچھ عرصہ دینی تعلیم حاصل کر کے زندگی وقف کر کے خادم دین کے زمرہ میں داخل ہو گئے۔آرچرڈ صاحب کی زندگی میں ایک ایسا ہمہ گیر انقلاب آیا کہ ان کی کایا پلٹ گئی۔عبادت الہی اور دعاؤں میں شغف، امام وقت کی دل و جان سے اطاعت اور مالی قربانی بشاشت سے کرنے میں بہتوں سے آگے نکل گئے۔(الفضل 10 جنوری 1978 ء) وہ لکھتے ہیں: ”حلقہ بگوش احمدیت ہونے کے بعد قادیان کے تاریخی دورہ کا سب سے پہلا شمرہ ترک شراب نوشی تھا۔ساتھ ہی جوا اور سگریٹ نوشی سے بھی توبہ کر لی۔میں گھوڑوں، کتوں اور تاش وغیرہ پر جوئے کی بڑی بڑی شرطیں لگایا کرتا تھا۔ایک دفعہ تاش کی بازی پر اپنی پورے مہینہ کی تنخواہ ہار گیا۔احمدیت میں داخل ہونے کے بعد اس لعنت سے چھٹکارا حاصل ہوا۔احمدیت سے میں خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتا تھا اب میں 1/3 حصہ کا موصی ہوں اور باقی چندے بھی ادا کرتا ہوں۔احمدیت نے مجھے نماز اور دعا کا پابند بنا دیا ہے۔" ناروے کے ایک احمدی دوست نور احمد بولستاد (Noor Ahmad Bolstod) ہیں۔انہوں نے قریباً 16 سال کی عمر میں احمدیت قبول کی جس کے بعد ان کی زندگی میں ایک عظیم تغیر رونما ہوا۔پنج وقتہ نمازوں کی ادائیگی کے علاوہ انہوں نے اپنے آپ کو آنریری (Honorary) مربی بھی بنا لیا اور ناروے میں دعوت الی اللہ کی مہم کا آغاز کیا۔آپ اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں: ایک احمدی ہونے کی حیثیت سے میں تمام دینی احکام پر عمل کرنیکی کوشش کرتا ہوں۔“ لندن کے طاہر ایشون پٹیل بھی ہندوؤں سے احمدیت میں آئے تھے۔احمدی ہوتے ہی انہوں نے شراب پینی چھوڑ دی۔سگریٹ نوشی ترک کر دی اور باقاعدگی کے ساتھ نماز پڑھنی شروع کر دی۔556