مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 550 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 550

حدیث: عَنْ حُذِيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيْكُمْ مَاشَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلَكًا عَاضًا فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ اَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ سَكَتَ۔(مسند احمد بن ضبل جلد 4 صفحہ 273 - مقلوة بَابُ الْإِنْدَارِ وَالتَّحْذِيرِ) حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا پھر وہ اس کو اٹھا لے گا اور خلافت على مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ قائم ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اٹھا لے گا، پھر ایذا رساں بادشاہت قائم ہو گی اور تب تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا۔جب یہ دور ختم ہو گا تو اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہو گی اور تب تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا پھر وہ ظلم ستم کے اس دور کو ختم کر دے گا جس کے بعد پھر نبوت کے طریق پر خلافت قائم ہو گی ! یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔خلافت على مِنْهَاج النُّبُوَّة سے مراد وہ خلافت حقہ ہے جس کی بنیاد نبوت ہو، جو نبوت کی سر زمین پر قائم ہو، جو نبوت کے ذریعہ ہر قلب مومن پر تسلط قائم کرے۔خلافت على منهاج النبوة وہ خلافت ہے جس کی صداقت کو نبوت کے معیار صداقت پر پرکھا جا سکے، جسے نبوت کی کسوٹی پر جانچا جا سکے۔اس سے وہ تصوراتی خلافت مراد نہیں جس کی بنیاد حاکمیت اور ملوکیت قسم کی کسی چیز پر ہو۔دراصل خلافت عــلـى مِنْهَاجِ النُّبُوَّة ، خلافت کا وہ بہترین تصور ہے جسے نبوت نے ایمان اور عمل صالح کے پانی سے سیراب کیا ہو، جسے نبوت کے نور نے تابانی عطا کی ہو۔یہی وہ خلافت ہے جس کی ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ملاحقہ نے پیشگوئی فرمائی تھی۔اس خلافت کا قیام نبوت کی سرزمین کے علاوہ ممکن نہیں، اس کے قیام و انصرام کا عمل خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لیا ہے، وہ خود اس کی حفاظت اور رہنمائی فرماتا ہے۔اس کی حکمت بالغہ اس کو تمکنت عطا کرتی ہے۔اس خلافت کی برکت سے اعمال صالحہ بجا لانے والے مومنوں کی جماعت کلی طور پر خدائے واحد و یگانہ پر بھروسہ اور توکل کرتی ہے اور کلی طور پر دنیاوی اور مصنوعی خداؤں کے تسلط سے پاک ہوتی ہے۔اسی خلافت کے ذریعہ خدا تعالیٰ ایمان عملِ صالح، امن، دین کے استحکام، عبادت کے قیام اور شرک سے حفاظت کی ضمانت دیتا ہے۔یہی وہ بنیادی اُمور ہیں جن کی وجہ سے مومنوں کی جماعت خدا تعالی کی تائید و نصرت کو جذب کرتی ہے۔( ” خلافت مصنفہ بادی علی چودھری صفحہ 9) خلافت ایک ایسا بیج ہے جس کی آبیاری نبوت کرتی ہے اور نبوت سے پانے والے فیضان کو خلافت آگے جاری کرتی ہے اور باب خلافت کی ہر آہٹ فیضان نبوت کی عکاسی ہوتی ہے۔آنحضرت مطلقہ نے فرمایا ہے کہ : مَا كَانَتْ نُبُوَّةُ قَطُّ إِلَّا تَبِعَتُهَا خلافة - (كنز العمال جلد 11) کہ ہمیشہ نبوت کے بعد ہی خلافت کا قیام ہوا ہے۔اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے ذرا تاریخ مذاہب پر نظر تو دوڑائیں اور ڈھونڈیں تو آپ کو ایک نظیر بھی ایسی نہیں ملے گی بغیر نبوت کے خدا تعالیٰ کی خلافت قائم ہوئی جس خلافت کا خدا تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے وہ خلافت عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ہے جیسا کہ آنحضرت صلہ نے بیان فرمایا ہے۔یہ خلافت نبی کے ذریعہ ہر مومن کے دل میں اُتارتا ہے جن کو وقت کا نبی اپنی تعلیم اپنی روحانیت، خدا تعالیٰ کے نشانات، معجزات اور دیگر انوار کے پانی سے سیراب کرتا ہے تب مومنوں کے دل ایمان سے معمور اور ان کے جسم و جان اعمال صالحہ پر مامور ہو جاتے الله ہو۔550