مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 534 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 534

اپنے بعد والوں کے لئے چھوڑ مرے۔آج ان کے محل برباد ہیں اور وہ قبر کی تاریکی میں بے نام و نشان پڑے سڑ رہے ہیں۔خود تمہاری اولاد اور تمہارے دوست اور عزیز کہاں ہیں جن کو موت آگئی اور اب ان کو اپنے اعمال کا جواب دینا پڑ رہا ہو گا۔سن لو اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہے۔وہ اپنی مخلوقات کے ساتھ بلا کسی غرض کے بھلائی کرتا ہے اور اس کی اطاعت اور حکم کی اتباع کے بغیر کوئی ضرور نقصان مخلوق سے دور نہیں ہوتا۔اور سمجھ لو کہ تم مقروض غلام ہو اور اس کی اطاعت کے بغیر تم آزادی حاصل نہیں کر سکتے ،کوئی بھلائی بھلائی نہیں جس کا نتیجہ دوزخ ہوا اور کوئی برائی برائی نہیں جس کا نتیجہ جنت ہو۔“ تاریخ طبری جلد 2 حصہ 2 - صفحہ 456 تا 460) مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پہلے خطبہ میں اطاعت کے بارے میں فرمایا: اللہ عزو جل نے ایسی کتاب نازل فرمائی جو لوگوں کو ہدایت کرنے والی ہے اس کتاب میں ہرقسم کے خیر و شر کو بیان کیا گیا ہے اب تمہیں چاہئے کہ تم خیر کو قبول کرو اور شر کو چھوڑ دو اور اللہ تعالیٰ کے فرائض کو ادا کرو وہ تمہیں جنت میں داخل کرے گا۔اللہ تعالیٰ نے بہت سے امور فرمائے ہیں جو قطعاً ڈھکے چھپے نہیں اور تمام حرام کاموں سے زیادہ مسلمانوں کا خون حرام فرمایا ہے اس نے مسلمانوں کے ساتھ اخلاص اور باہم متحد رہنے کا حکم فرمایا ہے اور مسلمان وہی ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان بھائی محفوظ رہیں سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے اس کی ایذا دہی کا حکم دیا ہو۔تم لوگ موت کے آنے سے قبل اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرو جبکہ موت تمہیں گھیر تی چلی آرہی ہے اس لئے تم لوگ گناہوں سے ہلکے ہو کر موت سے ملو، لوگ تو ایک دوسرے کا انتظار کرتے ہی رہتے ہیں تم لوگ اللہ کے بندوں اور اس کے شہروں کی بربادی کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو کیونکہ تم سے اس کا ضرور سوال کیا جائے گا حتی کہ چوپایوں اور گھاس پھوس تک کے بارے میں تم سے سوال کیا جائے گا۔اللہ عزوجل کی اطاعت کرو اور اس کی نافرمانی نہ کرو اور جس چیز میں بھی تمہیں خیر نظر آئے تم اسے قبول کرو اور جو بھی برائی دیکھو اسے چھوڑ دو اور اس وقت کو یاد کرو جب تم لوگ تھوڑی تعداد میں تھے اور زمین میں کمزور تھے۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: تاریخ طبری جلد 3 حصہ 2۔صفحہ 441) سو تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دعا کرتے رہو۔اور چاہئے کہ ہر ایک صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہو کر دعا میں لگے رہیں تا دوسری قدرت آسمان سے نازل ہو اور تمہیں دکھاوے کہ تمہارا خدا ایسا قادر خدا ہے۔اپنی موت کو قریب سمجھو تم نہیں جانتے کہ کس وقت وہ گھڑی آجائے گی۔“ (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ 306) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام فرماتے ہیں: اللہ اور اس کے رسول اور ملوک کی اطاعت اختیار کرو۔اطاعت ایک ایسی چیز ہے کہ اگر سچے دل سے اختیار کی جائے تو دل میں ایک نور اور روح میں ایک لذت اور روشنی آتی ہے۔مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں ہے جس قدر اطاعت کی ضرورت ہے مگر ہاں شرط یہ ہے کہ سچی اطاعت ہو اور یہی ایک مشکل امر ہے۔534