مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 514
سیدنا حضرت خلیفة ، خلیفة المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: (خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 198 199 ) پھر ایک اور روایت ہے جس سے مشورے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کے بعد اگر ہمیں کوئی ایسا امر در پیش ہوا جس کے بارے میں وحی قرآن نازل نہیں ہوئی اور نہ ہی ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا تو ہم کیا کریں گے؟ اس پر آنحضور متعلقہ نے فرمایا ایسے معاملے کو حل کرنے کے لئے مومنوں میں سے علما کو یا عبادت گزار لوگوں کو جمع کرنا اور اس معاملے کے بارے میں ان سے مشورہ کرنا اور ایسے معاملے کے بارے میں فرد واحد کی رائے پر فیصلہ نہ کرنا۔(کنز العمال باب فی فضل حقوق القرآن جلد 2 صفحه 340) اس حدیث کی طرف بھی جماعت کو توجہ کرنی چاہئے اور دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ جماعت میں ہمیشہ دینی علوم کے بھی اور دوسرے علوم کے بھی ماہرین پیدا فرماتا رہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عباد الرحمن پیدا فرمائے اور ہمیں عبادالرحمن بنائے تاکہ خلیفہ وقت کو مشورہ دینے میں بھی کبھی دقت پیش نہ آئے اور ہمیشہ مشورے سن کر احساس ہو کہ ہاں یہ نیک نیتی سے دیا گیا مشورہ ہے۔یہ نیک نیتی پر مبنی مشورہ ہے۔اور اس میں اپنی ذات کی کسی قسم کی کوئی ملونی نہیں۔“ خطبات مسرور جلد 2 صفحه 199 ) 514