مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 504
شَيْئاً (النور آیت: 56 ) کہ اگر انعام خلافت تمہیں عطا ہو گا اور جب بھی عطا ہوگا تو اس کا آخری نتیجہ نکلے گا کہ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئاً وہ میری عبادت کریں گے اور میرے سوا کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔پس جو آسمانی توحید قائم ہے وہ تو قائم ہے ہی۔میری مراد یہ ہے کہ اس توحید کی برکت سے جماعت کو بھی ایک وحدت نصیب ہوگی اور ساری جماعت کا ایک ہی رُخ ہو گا۔اس مسئلہ میں جو دوسرے امور قابل ذکر ہیں ان میں ایک نہایت ہی لطیف حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے پیش کیا آپ کی نگاہ نہایت باریک بین تھی اور اس نکتہ کو پیش کرنے میں آپ منفرد تھے۔آپ نے فرمایا کہ مجلس شوری کی دو حیثیتیں ہیں ایک یہ کہ وہ خلیفہ وقت کو مخاطب کر کے مشورہ دیتی ہے اس حیثیت سے تو حق کا کوئی سوال ہی باقی نہیں رہتا اور یہ جو خطرات ظاہر کئے گئے ہیں کہ عورتوں کی اکثریت ہو جائے گی اور وہ فیصلوں کو کھینچ کر اپنی طرف لے جائیں گی یہ بالکل لغو اور بے معنی بات ہے کیونکہ اسلامی نظام شوری میں تو صرف مشورہ ہی دیا جا تا ہے۔لیکن شوریٰ کی ایک حیثیت یہ بھی ہے کہ خلیفہ وقت فوت ہو جائے تو دوسرے خلیفہ کے انتخاب میں مجلس شوریٰ کو ایک کردار ادا کرنا ہوتا ہے اس وقت تک یہی شکل تھی۔تو مجلس شوری کی یہ حیثیت ایسی ہے جس پر غور ہونا چاہیے اور پہلی حیثیت کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں رکھتی۔اس وقت یہ دیکھنا پڑے گا کہ مستورات کو اگر نمائندگی دی جائے تو کس حد تک دی جائے؟ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو محاکمہ فرمایا وہ بہت دلچسپ تھا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ جو دونوں طرف سے بحث اٹھائی گئی ہے یعنی نص صریح سے حرام ہونا یا نص صریح سے ضروری ہونا قرار دیا گیا ہے یہ دونوں باتیں بالکل بے محل اور بے معنی ہیں۔نص صریح سے صرف یہ پتہ چلتا ہے کہ نہ قرآن کریم روک رہا ہے نہ اس کا حکم دے رہا ہے بلکہ یہ ایک عقلی مسئلہ ہے اور اس نوعیت کا ہے کہ اگر اسلام نے عورت کو ایک حق سے محروم نہ کیا ہو اور جماعت اسے اس حق سے محروم کر دے گی تو اس کے نتیجہ میں جو خطرناک رجحانات بعد میں پیدا ہوں گے اور ہو سکتا ہے کہ کسی زمانہ میں دنیا کی عورت ایسے احکامات کے خلاف بغاوت کرے جو خدا تعالیٰ کے نہیں ہیں بلکہ بندوں کے بنائے ہوئے احکامات ہیں تو اس صورت میں اس کی ساری ذمہ داری ہمیشہ کے لئے اس مجلس شوری پر پڑے گی۔پس آپ نے بڑی عظیم الشان اور نہایت پر شوکت رنگ میں تنبیہہ کی۔دوسری طرف آپ نے بڑے عزم کے ساتھ اس بات کا اعلان کیا کہ جہاں تک قرآنی احکامات کا تعلق ہے ان کے نفاذ میں میرے دل میں خوف کا شائبہ تک نہیں کہ قرآنی احکام کے نفاذ میں عورتیں اگر کوئی بغاوت کرتی ہیں تو اس سے کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ہمیں کوڑی کی بھی پرواہ نہیں ہوگی یہ اللہ کے کام ہیں ہم دیانتداری سے یہ فیصلہ کریں گے کہ اللہ کی مرضی کیا ہے۔وہ مرضی لازما نافذ کی جائے گی اس کے نتیجہ میں اگر دنیا کی آزاد خیال عورتیں متنفر ہوتی ہیں یا بھاگتی ہیں تو ہم ذمہ دار نہیں ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے احکامات ہیں اور وہی ان کے نافذ کرنے کا ذمہ دار ہے اور اسی کو طاقت ہے کہ وہ ان کو نافذ کرے۔پس آخری بات یہ ثابت ہوئی کہ یہ ایک عقلی مسئلہ ہے اور شریعت کے نام پر عورتوں کو نمائندگی کے حق سے محروم کرنا بہر حال جائز نہیں ہے اور جہاں تک حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی ذاتی رائے کا تعلق ہے وہ 504