مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 500
کر لیتے باقی لوگ نہیں بلائے جاتے تھے۔جن سے رسول کریم کریم صلی الله مشورہ لیتے تھے، تاریخ سے معلوم ہوتا ہے تمہیں (30) کے قریب ہوتے تھے۔رسول کریم ملاقہ سب کو ایک جگہ بلا کر مشورہ لے لیتے۔کبھی تین چار کو بلا کر مشورہ لے لیتے۔3 تیسرا طریق یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی خاص معاملہ میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے تھے کہ دو آدمی بھی جمع نہ ہونے چاہئیں۔علیحدہ علیحدہ مشورہ لیتے۔پہلے ایک کو بلا لیا۔اس سے گفتگو کر کے اس کو روانہ کر دیا اور دوسرے کو بلالیا۔اس سے گفتگو کر کے اس کو روانہ کر دیا اور دوسرے کو بلالیا۔یہ ایسے وقت (3 میں ہوتا جب خیال ہو تا کہ ممکن ہے رائے کے اختلاف کی وجہ سے دو بھی آپس میں لڑ پڑیں۔یہ تین طریقے تھے مشورہ لینے کے اور یہ تینوں اپنے اپنے رنگ میں بہت مفید ہیں۔میں بھی ان طریق سے مشورہ لیتا ہوں۔“ رپورٹ مجلس مشاورت 1922 ء صفحہ 6-7 ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احباب جماعت سے مشورہ طلب کرنے کے بارے میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں بعض امور جب پیش آتے تو آپ علیہ السلام سال میں دو تین چار بار بھی اپنے خدام کو بلا لیتے کہ مشورہ کرنا ہے۔کسی جلسے کی تجویز ہوتی تو یاد فرما لیتے ، کوئی اشتہار شائع کرنا ہوتا تو مشورہ کے لئے طلب کر لیتے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: (رپورٹ مجلس مشاورت 1928ءصفحہ 144 ) سے قرآن کریم نے مثالی اسلامی معاشرہ کا تصور پیش کرتے ہوئے جو مختلف اصول بیان فرمائے ہیں ان میں ایک باہمی مشورہ کا اصول بھی ہے جیسا کہ فرمایا: وَأَمْرُهُمْ شُورى بَيْنَهُمْ (سورة الشورى: 39) اس مشورہ کے امر کو جماعت احمدیہ میں ایسے رنگ میں قائم کرنا جو صحیح اسلامی اقدار کے عین مطابق ہو اور افراط و تفریط ہو قیام جماعت احمدیہ کے اولین اغراض و مقاصد میں شامل ہے۔چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اہم امور میں صائب الرائے احباب سے مشورہ لینے کی سنت پر ہمیشہ کار بند رہے اور وقتاً فوقتاً عند الضرورت کبھی انفرادی طور پر اور کبھی اجتماعی طور پر احباب جماعت سے مشورہ لینے کا انتظام فرمایا۔اجتماعی مشورہ کی ایک اہم مثال 1891ء میں ہمارے سامنے آتی ہے جبکہ دسمبر میں جماعت احمدیہ کا پہلا جلسہ سالانہ منعقد کیا گیا۔جماعت کی تعداد اس وقت اتنی قلیل تھی کہ جلسہ کے موقع پر صرف 75 زائرین شامل ہوئے۔اس قلیل تعداد کو ملحوظ رکھتے ہوئے جلسہ اور مشاورت کا الگ انتظام کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی لہذا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی جلسہ سالانہ سے مشاورت کا کام بھی لیا۔اور جماعت احمدیہ کی اس پہلی مجلس مشاورت میں جو تجویز پیش کی گئی وہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بکثرت ظاہر ہونے والے نشانات کا ریکارڈ (Record) محفوظ کرنے کی خاطر ایک ایسی انجمن بنائی جائے جو احمدی اور غیر احمدی حضرات پر مشتمل ہو۔یہ تجویز بالاتفاق اس ترمیم کے ساتھ منظور ہوئی کہ فی الحال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رسالہ ”آسمانی فیصلہ کو جس میں یہ تجویز موجود ہے شائع کر دیا جائے۔اس پر مخالفین سلسلہ کا عندیہ معلوم کرنے کے بعد بہ تراضی فریقین مجوزه انجمن کے ممبران مقرر کیے جائیں۔اجتماعی مشاورت کا یہ سلسلہ باقاعدہ سالانہ صورت میں جاری نہیں کیا گیا تھا بلکہ خلافت ثانیہ کے آغاز تک ایسی مجلس حسب ضرورت بلائی جاتی رہی۔1922ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے پہلی مرتبہ با قاعدہ 500