مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 478
خدا اگر ہمارا یہ یقین ہے اور احمدی مکہ و مدینہ کی عزت کرنے والے ہیں تو تو ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر عذاب نازل کر۔وہ اسی طریق فیصلہ کی طرف آئیں اور دیکھیں کہ خدا اس معاملہ میں اپنی قدرت کا کیا ہاتھ کھاتا ہے لیکن اگر وہ اس کے لیے تیار نہ ہوں تو یاد رکھیں جھوٹ اور افترا دنیا میں کبھی کامیاب نہیں کر سکتا۔“ (سوانح فضل عمر جلد نمبر 3 صفحہ 291) حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا چیلنج جماعت کی طرف سے بڑے بڑے پوسٹروں اور پمفلٹوں کی صورت میں بکثرت شائع کیا جاتا رہا اور حضور رضی اللہ عنہ کے نمائندگان خطوں پر خط احراری لیڈروں کے نام لکھ رہے تھے مگر احراری لیڈر مباہلہ پر آمادگی کا پراپیگنڈا کرنے کے باوجود تصفیہ شرائط کے بارے میں بالکل چپ سادھے بیٹھے رہے لیکن وقتاً فوقتاً احرار کی طرف سے قادیان میں آکر یہ اعلان کیا جاتا رہا کہ مرزائی مباہلہ سے فرار ہو گئے ہیں۔حالانکہ مباہلہ کے لیے نہ کوئی شرائط طے ہوئیں اور نہ ہی مباہلہ کی تاریخوں کا تعین کیا گیا جماعت کی طرف سے جب بار بار احراریوں کو شرائط طے کرنے کے بعد مباہلہ کے میدان میں اترنے کے لیے للکارا گیا تو انہوں نے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ امام جماعت احمد یہ مباہلہ میں خود شریک نہیں ہو رہے بلکہ دوسرے احمدیوں کو شامل کر رہے ہیں اور دوسرے یہ کہ مباہلہ لاہور یا گورداسپور میں ہونے کی بجائے قادیان میں ہی ہو۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ چونکہ احرار کو بھاگنے کا کوئی موقع نہیں دینا چاہتے تھے اس لیے حضور رضی اللہ عنہ نے صاف الفاظ میں اعلان کردیا کہ: ”مباہلہ میں شامل ہونے والا اول وجود میرا ہو گا اور سب سے پہلا مخاطب میں اس دعوت مباہلہ کا اپنے آپ کو سمجھتا ہوں۔" 66 احرار کے دوسرے مطالبہ کے بارے میں فرمایا کہ: اگر ان کو قادیان میں مباہلہ کرنے کا شوق ہو تو خوشی سے قادیان تشریف لے آئیں بلکہ ہماری زیادہ خواہش یہ ہے کہ وہ ہمارے ہی مہمان بنیں ہم ان کی خدمت کریں گے، انہیں کھانا کھلائیں گے ان کے آرام اور سہولت کا خیال رکھیں گے، پھر ان کے سارے بوجھ اٹھا کر انشاء اللہ ان سے مباہلہ بھی کریں گے۔“ دوسرے طرف احراری اصل میں قادیان میں مباہلہ کی آڑ میں کانفرنس منعقد کر کے ہنگامہ برپا کرنا چاہتے تھے۔اسی دوران حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے احرار کی نیت لوگوں پر واضح کی کہ یہ لوگ دراصل فساد چاہتے ہیں اس لیے مباہلہ کی شرائط اور تاریخ مباہلہ کی تعین نہیں کر رہے۔17 نومبر 1935 کو مسجد خیرالدین امرتسر میں مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری نے اپنی نیت خوب واضح کر دی انہوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا ”لوگ پوچھتے ہیں کہ مباہلہ ہو گا کہ نہیں؟ میاں سنو! ہمیں مباہلہ سے کیا؟ ہو یا نہ ہو، میں صرف کہتا ہو کہ تم قادیان چلو باقی کچھ نہ پوچھو۔مرزائیوں کے اب آخری دن ہیں مباہلہ کریں یا نہ کریں ہم ان کو مٹا دیں گے۔پچاس سال انہوں نے موجیں کر لی ہیں۔“ احرار کی اس نیت کو دیکھتے ہوئے گورنمنٹ پنجاب نے احرار کو قادیان جانے سے روک دیا اور حکومت کی اس ممانعت کے باعث اگر چہ احرار کے ارمان دل میں ہی رہ گئے مگر انہوں نے مباہلہ سے چھٹکارا پا کر سکھ کا سانس لیا اور وہ پیالہ جسے ٹالنے کے لیے مختلف بہانے تراش رہے تھے حکومت پنجاب کی مہربانی سے ٹل گیا۔ان کا مباہلہ سے فرار ان کے لئے دکھتی ہوئی رگ بن گیا۔جسے چھیڑتے ہوئے ایک مشہور صحافی ابو العلاء چشتی نے اخبار احسان لاہور کے اداریہ میں لکھا کہ میں مرزا بشیر الدین محمود نہیں جس سے مباہلہ کرنے کا نام سن کر رہنما یا ان احرار کے بدن پر رعشہ طاری ہو جاتا ہے۔“ (اخبار احسان یکم نومبر 1925ء بحوالہ الفضل 7نومبر 1935ء) 478