مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 475
بھی میں ان سے کہتا ہوں دنیا کے کسی علم کا ماہر میرے سامنے آ جائے، دنیا کا کوئی پروفیسر میرے سامنے آجائے، دنیا کا کوئی سائنس دان میرے سامنے آ جائے اور وہ اپنے علوم کے ذریعہ قرآن کریم پر حملہ کر کے دیکھ لے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسے ایسا جواب دے سکتا ہوں کہ دنیا تسلیم کرے گی کہ اس کے اعتراض کا رد ہو گیا اور میں دعویٰ کرتا ہوں کہ خدا کے کلام سے ہی اس کو جواب دوں گا اور قرآن کریم کی آیات کے ذریعہ سے ہی اس کے اعتراضات کو رد کر کے دکھا دوں گا۔“ (انوار العلوم جلد نمبر 17 صفحہ 277) حضرت فضل عمر رضی اللہ عنہ کے اس عظیم الشان دعوئی کے سامنے دنیا کے کسی بھی ماہر کو مقابلہ کی جرأت نہ ہوئی۔(8 8 حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا تمام الہامی کتب پر قرآن کریم کی فضیلت کا چیلنج: غرض قرآن کریم کو وہ عظمت حاصل ہے جو دنیا کی اور کسی کتاب کو حاصل نہیں اور اگر کسی کا دعوی ہو کہ اس کی مذہبی کتاب بھی اس فضیلت کی حامل ہے تو میں چیلنج دیتا ہوں کہ وہ میرے سامنے آئے۔اگر کوئی وید کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے آئے، اگر کوئی توریت کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے آئے، اگر کوئی انجیل کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے آئے اور قرآن کریم کا کوئی ایسا استعارہ میرے سامنے رکھ دے جس کو میں بھی استعارہ سمجھوں۔پھر میں اس کا حل قرآن کریم سے ہی نہ پیش کر دوں تو وہ بیشک مجھے اس دعوئی میں جھوٹا سمجھے لیکن اگر پیش کر دوں تو اسے ماننا پڑے گا کہ واقعہ میں قرآن کریم کے سوا دنیا کی اور کوئی کتاب اس خصوصیت کی حامل نہیں۔“ (فضائل القرآن از حضرت مصلح موعود صفحه 439) کے عظیم معلم کے اس چیلنج کو وید، تورات اور انجیل کے پیروکاروں نے قبول نہ کیا اور خاموشی میں ہی عافیت عظیم (9) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی طرف سے غیر مبایعین کو چیلنج کہ کس بار کا گروہ تعداد میں بڑھ رہا ہے: میں نے بار ہا چیلنج کیا ہے کہ وہ لوگ جو تم میں سے نکل کر ہم میں شامل ہوئے ہیں ان کی بھی گنتی کر لو اور جو لوگ ہم میں سے نکل کر تم میں شامل ہوئے ہیں ان کی بھی گنتی کر لو ، پھر تمہیں خود بخود معلوم ہو جائے گا کہ کون بڑھ رہا ہے اور کون گھٹ رہا ہے؟ مگر انہوں نے کبھی اس چیلنج کو قبول نہیں کیا۔اسی طرح میں نے بار دیا ہے کہ تم اس بات میں بھی ہمارا مقابلہ کر لو کہ تمہارے ذریعہ سے کتنے لوگ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوتے ہیں مگر انہیں کبھی اس مقابلہ کی توفیق بھی نہیں ملی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ گر انہوں نے مقابلہ کیا تو ان کا پول کھل جائے گا۔“ خدا تعالیٰ کی یہ قدیم صفت ہے کہ الہی جماعتوں کی تعداد ہمیشہ بڑھتی رہتی ہے اور بالآخر ایک دن غلبہ نصیب بن جاتا ہے اس طرح جماعت احمد یہ ایک الہی جماعت ہونے کی وجہ سے دن بدن ترقی کر رہی تھی اور ترقی کر رہی ہے اور مولوی محمد علی کے (سوانح فضل عمر جلد نمبر 5 صفحہ 125) 475