مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 452
ہے کہ اس کے نتیجے کے طور پر صفحہ ہستی سے مٹ سکتی ہے۔وہ خطرہ ہے تنظیم و تبلیغ کا۔مسلمانوں کی طرف یہ کام اس تیزی سے ہو رہا ہے کہ ہندوؤں کے پاؤں اکھڑ رہے ہیں، ان کی تعداد سال بہ سال کم ہو رہی ہے اگر اسے کسی طرح روکا نہ گیا تو ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جبکہ آریہ دھرم کا کوئی بھی نام لیوا نہ رہے۔" 2 دیو سماجی اخبار ”جیون نت“ لاہور : (2 (اخبار پرتاب لاہور 21اکتوبر 1929ء) ملکانہ راجپوتوں کی شدھی کی تحریک کو روکنے اور ملکانوں میں اسلامی مت کا پرچار کرنے کیلئے احمدی صاحبان خاص جوش کا اظہار کر رہے ہیں۔چند ہفتے ہوئے قادیانی فرقہ کے لیڈر مرزا محمود احمد صاحب نے ڈیڑھ سو ایسے کام کرنے والوں کیلئے اپیل کی تھی جو تین ماہ کیلئے مالکانوں میں جا کر مفت کام کرنے کیلئے تیار ہوں، جو اپنا اور اپنے اہل و عیال کا وہاں کے کرایہ کا کل خرچہ برداشت کر سکیں اور انتظام میں جس لیڈر کے ماتحت جس کام پر انہیں لگایا جاوے اسے وہ خوشی خوشی کرنے کیلئے تیار ہوں۔بیان کیا جاتا ہے کہ اس اپیل پر چند ہفتوں کے اندر چار سو سے زیادہ درخواستیں موصول ہو چکی ہیں اور تین پارٹیوں میں نوے احمدی صاحبان آگرہ کے علاقہ میں پہنچ چکے ہیں اور بہت سرگرمی سے ملکانوں میں اپنا پرچار کر رہے ہیں۔اس نئے علقہ کے حالات معلوم کرنے کیلئے ان میں سے بعض نے جن میں گریجوایٹ نوجوان بھی شامل تھے اپنے بسترے کندھوں پر رکھ کر اور تیز دھوپ میں پیدل سفر کر کے علاقہ کا دورہ کیا ہے۔اپنے مت کے پرچار کیلئے ان کا جوش اور ایثار قابل تعریف ہے۔66 عیسائی ممالک میں مراکز احمدیت کا قیام: اخبار جیون نت لاہور 24 اپریل 1923ء) ہندوستان میں مسیح محمدی کی تیغ برہان کا نشانہ بننے والے مسیحی منادوں نے جب دیکھا کہ ہندوستان میں ان کی دال نہیں گلے گی تو انہوں نے اپنے دجالی حربوں کا نشانہ افریقہ کے سادہ لوح اور غریب عوام کو بنانا چاہا جو کچھ تو کاملاً مسلمان تھے یا پھر کلیۂ لامذہب تھے۔اس صورت حالات کو دیکھتے ہوئے مسیح موعود علیہ السلام کے خدام نے اپنے امام وقت کی رہنمائی میں سادہ لوح افریقیوں کو اپنے دجل کا نشانہ بنانے والی عیسائیت کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے۔یوں افریقی اسلام احمدیت کے مضبوط حصارِ عافیت میں آ گئے۔ذیل میں مسیح موعود علیہ السلام کے خدام اور مسیحیت کے علم برداروں کے مابین افریقہ کے تپتے صحراؤں میں ہونے والی معرکہ آرائیوں کا مختصراً ذخر کیا جاتا ہے جن میں اسلام نے فتح پائی اور باطل بھاگ گیا۔افریقہ میں سب سے پہلے 1896ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دو صحابہ حضرت منشی محمد افضل صاحب اور حضرت میاں عبداللہ صاحب کے ذریعہ احمدیت قائم ہوئی۔یہ دونوں صحابہ کینیا کی کالونی ممباسا پہنچے اور احمدیت کی داغ بیل ڈالی۔“ خص از تاریخ احمدیت جلد 7 صفحه (257) دار التبليغ غانا(Ghana) کا قیام: " 66 حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے افریقہ میں پہلے مشن ہاؤس (Mission House) کے قیام کیلئے مولانا 452