مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 447
جوابوں اس زمانہ میں پادری لیفرائے (Lefroy) پادریوں کی ایک بہت بڑی جماعت لے کر اور حلف اٹھا کر ولایت سے چلا کہ تھوڑے عرصہ میں تمام ہندوستان کو عیسائی بنا دوں گا۔ولایت کے انگریزوں سے روپیہ کی بہت بڑی مدد اور آئندہ مدد کے مسلسل وعدوں کا اقرار لے کر ہندوستان میں داخل ہو کر بڑا تلاطم برپا کیا۔اسلام کی سیرت و احکام پر جو اس کا حملہ ہوا تو وہ ناکام ثابت ہوا کیونکہ احکام اسلام و سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور احکام انبیاء بنی اسرائیل اور ان کی سیرت جس پر اس کا ایمان تھا یکساں تھے۔پس الزامی ونقلی و عقلی ، ہار گیا مگر حضرت عیسی علیہ السلام کے آسمان پر بجسم خاکی زندہ موجود ہونے اور دوسرے انبیاء کے زمین میں مدفون ہونے کا حملہ عوام کے لئے اس کے خیال میں کارگر ہوا تب مولوی غلام احمد قادیانی کھڑے ہو گئے اور لیفرائے (Lefroy) اور اس کی جماعت سے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام جس کا تم نام لیتے ہو دوسرے انسانوں کی طرح سے فوت ہو کر دفن ہو چکے ہیں اور جس عیسی کے آنے کی خبر ہے وہ میں ہوں۔پس اگر تم سعادت مند ہو تو مجھ کو قبول کر لو۔اس ترکیب سے اس نے لیفرائے (Lefroy) کو اس قدر تنگ کیا کہ اس کو پیچھا چھڑانا مشکل ہو گیا اور اس ترکیب سے اس نے ہندوستان سے لے کر ولایت تک کے پادریوں کو شکست دے دی۔“ (دیباچہ معجز نما کلاں قرآن شریف اصبح المطالب دلی مطبوعہ 1934ء صفحہ 30) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عیسائیت کے رد میں صرف زبانی مباحثات ہی نہیں کئے بلکہ آپ علیہ السلام نے عیسائیت کے رد میں بہت بڑا قلمی جہاد بھی کیا ہے۔اس جہاد کا میدان کم و بیش 84 کتب پر پھیلا ہوا ہے۔اس علمی خزانے اور عیسائیت کے خلاف ناقابل تسخیر ہتھیار نے احمدی مبلغین کو بھی ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ کتب جو آپ علیہ نے عیسائیت کے رد میں تصنیف فرمائی ہیں ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں: السلام (3 (1) انجام آتھم مسیح ہندوستان میں مولانا ابوالکلام آزاد: (4 (2) سراج الدین عیدائی کے چار سوالوں کے جواب جنگ مقدس (5 5) اعجاز مسیح 6 6) چشمه مسیحی مولانا ابوالکلام آزاد صاحب اخبار "وکیل" میں لکھتے ہیں کہ : ایک طرف حملوں کے امتداد کی یہ حالت تھی کہ ساری مسیحی دنیا اسلام کی شمع، عرفان حقیقی کو سر راہ منزل مزاحمت سمجھ کے مٹا دینا چاہتی تھی اور عقل و دولت کی زبر دست طاقتیں اس حملہ آور کی پشت گیری کے لئے ٹوٹی پڑی تھیں اور دوسری طرف ضعف مدافعت کا یہ عالم تھا کہ توپوں کے مقابلہ پر تیر بھی نہ تھے اور حملہ اور مدافعت دونوں کا قطعی وجود ہی نہ تھا کہ مسلمانوں کی طرف سے وہ مدافعت شروع ہوئی جس کا ایک حصہ مرزا صاحب کو حاصل ہوا۔اس مدافعت نے نہ صرف عیسائیت کے اس ابتدائی اثر کے پرخچے اڑا دیئے جو سلطنت کے سایہ میں ہونے کی وجہ سے حقیقت میں اس کی جان تھا اور ہزاروں لاکھوں مسلمان اس کے اس زیادہ خطرناک اور مستحق کامیابی حملہ کی زد سے بچ گئے بلکہ خود عیسائیت کا طلسم دھواں ہو کر اڑنے لگا۔غرض مرزا صاحب کی یہ خدمت آنے والی نسلوں کو گرانبار احسان رکھے گی کہ انہوں نے قلمی جہاد کرنے والوں کی پہلی صف میں شامل ہو کر اسلام کی طرف سے فرض مدافعت ادا کیا اور ایسا لٹریچر یادگار چھوڑا جو اس وقت تک کے مسلمانوں کی رگوں میں زندہ خون رہے اور حمایت اسلام کا جذبہ ان کے شعار قومی کا عنوان نظر آئے قائم رہے گا۔اس کے علاوہ آریہ سماج کی زہریلی کچلیاں توڑنے میں مرزا صاحب نے اسلام کی بہت خاص خدمت انجام دی۔“ 447