مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 441 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 441

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ” یہ قرآن شریف میں ایک عظیم الشان پیش گوئی ہے جس کی نسبت علما محققین کا اتفاق ہے کہ یہ مسیح موعود کے ہاتھ پر پوری ہو گی۔“ حدیث: تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 232) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ إِنَّا سَعِيدِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ سَمِعَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُؤْشِكُنَّ أَنْ يَنْزُلَ فِيْكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدَلًا فَيَكْسُرَ الصَّلِيْبَ وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ وَيَفِيُضَ الْمَالَ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ حَتَّى تَكُونَ السَّجَدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرٌ مِّنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا۔( بخاری کتاب الانبیاء باب نزول المسیح ابن مریم) ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے عنقریب تم میں ابن مریم نازل ہوں گے، صحیح فیصلہ کرنے والے، عدل سے کام لینے والے ہوں گے، وہ صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، لڑائی کو ختم کریں گے یعنی اس کا زمانہ مذہبی جنگوں کے خاتمہ کا زمانہ ہو گا، اسی طرح وہ مال بھی لٹائیں گے لیکن کوئی اسے قبول نہیں کرے گا ایسے وقت میں ایک سجدہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہو گا یعنی مادیت کے فروغ کا زمانہ ہو گا۔خلافت ایک انعام: خلافت اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم الشان انعام ہے جو انبیاء علیہم السلام کے بعد مؤمنین کی جماعت کو عطا کیا جاتا ہے تاکہ تقویٰ اور روحانیت کا جو بیج ان کے دلوں میں انبیاء کے ذریعے بویا گیا وہ خلفا کی روحانی آب پاشی کے ذریعہ ایک مضبوط اور تناور درخت کی طرح ہو جائے۔خلافت ہی وہ عظیم ذریعہ ہے جس کے توسط سے خدا تعالیٰ انبیاء کے عظیم کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے اور ان کی بعثت کے مقاصد کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھتا ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے یوشع بن نون اور مسیح ناصری کی وفات کے بعد پطرس نے موسوی اور عیسوی انوار کو بنی اسرائیل تک پہنچایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب بھیروی رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ پھر حضرت خلیفة أسبح الثالث رحم اللہ تعالیٰ پھر حضرت خلیفۃ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اور اب ہمارے موجودہ امام حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی مساعی سے اسلام کو وہ شوکت اور قوت حاصل ہو رہی ہے کہ طاغوتی طاقتیں اس کے مقابل پر سر بھی نہیں اٹھا سکتیں۔مقاصد خلافت خلفا درحقیقت انبیاء کے بوئے ہوئے بیج کی آب یاری کا کام سرانجام دیتے ہیں۔قرآن کریم نے انبیاء کے مندرجہ ذیل چار بنیادی کام بتائے ہیں: (1 انبیاء لوگوں کو قرآن کریم کی آیات پڑھ کر سناتے ہیں یعنی وہ ان عقلی امور کی طرف ان کی رہنمائی کرتے ہیں 441