مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 437
پا چکے تھے! (حضرت) خلیفہ رابع کے پاسپورٹ پر وضاحت سے لکھا ہوا تھا کہ ان کا نام (حضرت) مرزا طاہر احمد ہے اور یہ کہ وہ عالمی جماعت احمدیہ کے امام ہیں۔“ ایک مرد خدا۔مترجم چودھری محمد علی صاحب صفحہ 300,301) کافی تگ و دو کے بعد ائر پورٹ کے عملہ کی طرف سے جہاز کو پرواز کی اجازت دے دی گئی اور آپ حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ) بحفاظت لندن تشریف لے گئے۔آسمانی فیصلہ: حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے پاکستان سے تشریف لے جانے کے بعد ضیاء کے تشدد میں سختی آگئی حضور (حضرت خلیفۃ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ضیاء سے کہا کہ وہ باز آجائے اور خدا کے غضب سے بچ جائے۔چنانچہ ضیاء الحق کے باز نہ آنے پر حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے 10 جون 1987ء کو مباہلے کا چیلنج دے دیا۔حضرت خلیفہ ایچ لرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اگر تمہارے دل میں خدا کی کوئی رمق موجود ہے اور اگر اپنی دنیوی وجاہت کی وجہ سے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ہچکچاتے ہو تو تم کم از کم اتنا کرو کہ اس ظلم وستم سے باز آ جاؤ اور احمدیوں پر کئے جانے والے تشدد سے ہاتھ کھینچ لو اور خاموشی اختیار کر لو۔ہم فرض کر لیں گے کہ تم نے مباہلے کا چیلنج قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور ہم خدا تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ وہ تمہیں اپنے غضب کی آگ سے بچالے! لیکن افسوس کہ اس پر بھی ایذا رسانیاں بند نہ ہوئیں۔“ ایک مرد خدا۔مترجم چودھری محمد علی صاحب صفحہ 378,377) بعض لوگوں کو خیال تھا کہ مباہلہ کی شرائط پوری نہیں ہوئیں کیونکہ ضیاء نے علی الاعلان چیلنج قبول نہیں کیا۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس نقطہ نظر کو مسترد کرتے ہوئے فرمایا: ضروری نہیں کہ ایسا شخص چیلنج قبول کرنے کا اعلان بھی کرے۔اس ظلم و ستم پر اصرار ہی اس امر کا اعلان ہے کہ اس نے چیلنج قبول کر لیا ہے۔اب وقت ہی فیصلہ کرے گا۔ظالم خدا تعالیٰ کے سامنے کہاں تک اپنے کبر و غرور اور ہٹ دھرمی پر قائم رہتا ہے۔خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ فریق ثانی کی خاموشی کا کیا مطلب۔ایک مرد خدا۔مترجم چودھری محمد علی صاحب صفحہ 378) ہے۔6 12 اگست 1987ء کے خطبہ جمعہ میں (حضرت) خلیفہ رابع نے اعلان کیا کہ جنرل ضیاء الحق نے لفظاً، معناً، عملاً کسی شکل میں بھی احمدیوں پر کئے جانے والے مظالم پر پشیمانی کا اظہار نہیں کیا۔اب معاملہ اللہ (تعالی) کے سپرد ہے، ہم اس کی فعلی شہادت کے منتظر ہیں۔آپ (حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی) نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا: اب جنرل ضیاء الحق اللہ تعالیٰ کی گرفت اور اس کے عذاب سے بچ کر نہیں جا سکتا۔“ ایک مرد خدا۔مترجم چودھری محمد علی صاحب صفحہ 381) حضور (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ) کے الفاظ بعینہ پورے ہو گئے۔17 اگست 1988ء جنرل ضیاء ان جرنیلوں کے ساتھ جو ظلم میں اس کے دست و بازو تھے ایک طیارے کے حادثے میں ہلاک ہو گیا۔آج تک طیارے کے حادثے کی وجہ معلوم نہیں کی جا سکی لیکن یہ سب جانتے ہیں یہ حادثہ کیوں ہوا تھا۔خلاصہ کلام 437