مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 436 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 436

دنیا اس آرڈینینس کی خبر سن کر سکتے میں آگئی۔خود پاکستان میں کیا وکلا، اساتذہ اور سفارت کار اور کیا عام شہری اور کاروباری لوگ سبھی اس بات پر حیران اور ششدر تھے کہ اب اذان اور نماز بھی جرم قرار دیئے جا تھے۔سبھی افسردہ خاطر تھے کہ ان کا وطن عزیز مذہبی تعصب، منافرت، مذہب کے نام پر مفاد پرستی کی ایک خوفناک اور بھیانک دلدل میں پھنس کر رہ گیا ہے اور ان بدنام زمانہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جن کی حکومتیں اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے اپنے شہروں کو مذہب یا رنگ ونسل کی آڑ میں طرح طرح کے ظلم و تشدد کا نشانہ بناتی رہتی ہے۔“ مجھ ایک مرد خدا۔مترجم چودھری محمد علی صاحب صفحہ 283 تا 286) اس آرڈینینس (Ordinance) کے نفاذ کے بعد صورت حال یکسر بدل گئی۔اب صرف میری اپنی سلامتی ہی خطرے میں نہیں تھی بلکہ میری زبان بندی بھی کر دی گئی تھی۔اس نئے قانون کی آڑ میں جنرل ضیاء الحق نے پر ہی نہیں بلکہ جماعت احمدیہ کے فعال امام اور سربراہ کی حیثیت سے میری زبان پر بھی پہرے بٹھا دیئے تھے اور میرے لئے فرائض منصبی کی ادائیگی محال کر دی تھی یعنی پاکستان میں تو رہوں لیکن بولوں تو جیل (Jail) کی ہوا کھاؤں اور جب سزا بھگت کر واپس آؤں اور پھر بولوں تو پھر تین سال کے لئے جیل (Jail) بھیج دیا جاؤں۔ایک مرد خدا۔مترجم چودھری محمد علی صاحب صفحہ 289) اس کے بعد حضور انور رحمہ اللہ تعالیٰ کے مشیروں سے معتمدین نے اتفاق رائے سے مشورہ دیا کہ آپ کو فوراً پاکستان سے چلے جانا چاہئے حضور انور رحمہ اللہ تعالیٰ نے یہ مشورہ تو مان لیا لیکن صرف اس شرط پر کہ پاکستان چھوڑتے وقت آپ کے خلاف کسی قسم کے وارنٹ گرفتاری جاری نہ ہوئے ہوں اور نہ ہی کسی مبینہ الزام کی جواب دہی کے لئے آپ کو کسی کمیشن (Commission) کے رو برو پیش ہونے کے لئے کہا گیا ہو۔ضیاء کی غلطی: چنانچہ جب آپ لندن تشریف لے جانے کے لئے ربوہ سے کرچی پہنچے تو کراچی کے ائر پورٹ کے پاسپورٹ کنٹرول (passport control) کے سامنے جنرل ضیاء کا اپنے دستخطوں سے جاری کردہ ایک حکم نامہ پڑا تھا۔یہ حکم نامہ ملک کے تمام ہوائی ، سمندری اور بری راستوں اور گزرگاہوں تک پہنچ چکا تھا حکم نامے کے الفاظ یہ تھے: مرزا ناصر احمد کو جو اپنے آپ کو جماعت احمدیہ کا خلیفہ کہتے ہیں، پاکستان کی سر زمین چھوڑنے کی ہرگز اجازت نہیں۔“ اس لئے کراچی ائر پورٹ (Air Port پر جہاز کی روانگی میں کچھ تاخیر ہوئی تو چنداں تعجب کی بات نہ نہ تھی۔جنرل ضیاء کو (حضرت) خلیفہ ثالث سے اکثر سابقہ پڑتا رہا تھا اس لئے اس نے غلطی سے حکم نامے پر (حضرت) خلیفہ رابع یعنی (حضرت) مرزا طاہر احمد کی بجائے (حضرت) خلیفہ ثالث یعنی (حضرت) مرزا ناصر احمد کا نام اپنے ہاتھ سے لکھ دیا! جنرل ضیاء الحق نے پابندی لگائی بھی تو (حضرت) خلیفہ ثالث پر جو اس پابندی کے لگنے سے دو سال قبل وفات 436