مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 428 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 428

اس دوسری تحریک کا آغاز مئی 1952ء میں جماعت احمدیہ کراچی کے سالانہ جلسہ کی مخالفت سے کیا گیا اس جلسہ کو روکنے کے لئے ہر طرح کی کوشش کی گئی لیکن اللہ کے فضل سے جلسہ کامیاب ہوا۔جلسہ کامیاب ہوتا دیکھ کر ہنگامہ آرائی کرنے والوں نے احمدیوں کے املاک کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا اور اکا دُکا احمدیوں کو پکڑ کر مارا پیٹا گیا۔جون 1952ء میں احرار نے حکومت پاکستان سے تین مطالبات شروع کر دیئے۔_1 -2 -3 احمدی غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جائیں، چودھری ظفر اللہ خان صاحب وزیر خارجہ کے عہدے سے برطرف کئے جائیں، احمدیوں کو تمام کلیدی آسامیوں سے ہٹا یا جائے۔تاریخ احمدیت جلد 15 صفحہ 127) یہ مطالبات تو محض ایک آڑ تھے ورنہ اصل مقصد در پردہ اپنی سیاسی اغراض حاصل کرنا تھا جیسا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جلسہ سالانہ 1952ء کے موقع پر فرمایا: ” جماعت احمدیہ کے خلاف فتنہ گزشتہ دو سال سے جاری تھا مگر اس سال اس نے خاص شہرت اختیار کر لی تھی کیونکہ ملک کے بعض عناصر نے اپنی اپنی سیاسی اور ذاتی اغراض کے ماتحت احراریوں سے جوڑ توڑ کرنے اور انہیں ملک میں نمایاں کرنے کی کوشش کی۔احمدیت کی مخالفت اور اسی طرح چودھری ظفر اللہ خان صاحب کی مخالفت تو محض ایک آڑ تھی ورنہ اصل مقصد در پردہ وہ اپنی سیاسی اغراض حاصل کرنا تھا۔“ وو تاریخ احمدیت جلد 15 صفحہ 372,371) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے خطبہ جمعہ میں مخالفین کے انجام کے متعلق فرمایا: یاد رکھو اگر تم نے احمدیت کو سچا سمجھ کر مانا ہے تو تمہیں یقین رکھنا چاہئے کہ احمدیت خدا تعالی کی قائم کی ہوئی ہے مودودی، احراری اور ان کے ساتھی اگر احمدیت سے ٹکرائیں گے تو ان کا حال اس شخص کا سا ہو گا جو پہاڑ سے ٹکرا تا ہے۔اگر یہ لوگ جیت گئے تو ہم چھوٹے ہیں لیکن اگر ہم بچے ہیں تو یہی لوگ ہاریں گے۔انشاء اللہ تعالی و باللہ التوفیق تاریخ احمدیت جلد 15 صفحہ 486,487) فروری 1953ء کے آخر میں پنجاب میں بالخصوص اور پورے پاکستان میں بالعموم عام فسادات شروع ہو گئے جس میں حکومتی لوگوں کی املاک کی توڑ پھوڑ کی گئی اور نقصان پہنچایا گیا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ایک مقدس نام یعنی ختم نبوت کے نام پر کیا جا رہا تھا۔انہیں ایام میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک پیغام میں جماعت کو فرمایا: آپ بھی دعا کرتے رہیں، میں بھی دعا کرتا ہوں، انشاء اللہ فتح ہماری ہے۔کیا آپ نے گزشتہ چالیس سال میں کبھی دیکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے چھوڑ دیا؟ تو کیا اب وہ مجھے چھوڑ دے گا؟ ساری دنیا مجھے چھوڑ دے مگر وہ انشاء اللہ مجھے کبھی نہیں چھوڑے گا۔سمجھ لو کہ وہ میری مدد کے لئے دوڑا آرہا ہے۔وہ میرے پاس ہے، وہ مجھ میں ہے، خطرات ہیں اور بہت ہیں مگر اس کی مدد سے سب دور ہو جائیں گے۔“ خدائی نشان کا ظہور : تاریخ احمدیت جلد 15 صفحہ 493,492) 428