مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 424
عنقریب چند یوم میں خلیفہ قادیان قتل کیا جائے گا اور منارہ گرا دیا جائے گا اور گورنمنٹ سن لے کہ ہم جلدی خلیفہ قادیان کو قتل کرا دیں گے۔“ تاریخ احمدیت جلد نمبر 7 صفحہ 386) اس سے واضح ہو گیا کہ مخالفین کے مد نظر خلیفہ اور خلافت ہی تھی جو جماعت احمدیہ کی یکجائیت اور ترقی کی وجہ تھی۔دوسرا اس سے یہ بھی کھل گیا کہ گورنمنٹ کھلے طور پر لوگوں کا ساتھ دے رہی تھی ورنہ ممکن نہ تھا کہ اس طرح کھلے طور پر عوام میں تقریر کرتے ہوئے کسی کو قتل کی دھمکیاں دی جائیں اور اس پر قانونی گرفت نہ ہو۔یہ سب کچھ گورنمنٹ اور احرار کی ملی بھگت سے ہو رہا تھا جس کی وجہ سے احراری لیڈر دندناتے پھر تے تھے۔احراریوں نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے ہر حربہ استعمال کیا ان میں سے چند ایک کا ذکر پیش ہے: -1 -2 احراریوں نے گورنمنٹ سے مطالبہ شروع کر دیا کہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے یہ مطالبہ ان کا اپنا کے متعلق نہیں تھا بلکہ ہندو لیڈروں کے ذہن کی پیداور تھا جس کی تکمیل کے لئے احرار کو استعمال کیا گیا۔دوسرا حربہ احرار نے یہ استعمال کیا کہ (معاذ اللہ ) بانی جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پھیلانا شروع کر دیا کہ آپ (علیہ السلام) انگریز کے جاسوس اور خود کاشتہ پودا تھے۔تیسرا حربہ احراریوں نے یہ استعمال کیا کہ پراپیگینڈا (propaganda) شروع کر دیا کہ احمدی لوگ در پردہ اپنی طاقت بڑھا کر سیاسی اقتدار قائم کرنا چاہتے ہیں انہوں نے قادیان میں ایک متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے جس کے قوانین _3 برطانوی آئین سے مزاحم ہیں۔نے فرمایا: ) تاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ 389 تا 407) گویا یہ مخالفت صرف مذہبی نہ تھی بلکہ مذہبی، سیاسی اور اقتصادی تینوں لحاظ سے تھی جیسا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس وقت ہمارے خلاف جو فتنہ ہے یہ صرف مذہبی نہیں، نہ صرف سیاسی اور نہ صرف اقتصادی ہے بلکہ مذہبی بھی ہے اقتصادی بھی ہے اور سیاسی بھی تینوں وجوہات کی بنا پر مذہبی، سیاسی اور اقتصادی رنگ میں ہماری مخالفت کی جاتی ہے۔ہم ہر ایک کے دوست اور خیر خواہ ہیں۔۔۔۔ہماری ترقی کو دیکھ کر سب جماعتیں پریشان ہو و گئی ہیں اور ہمارے تباہ کرنے کے لئے متفق ہو گئی ہیں یا پھر موجودہ فتنہ کی وجہ یہ ہے اللہ تعالیٰ ہماری آزمائش کرنا چاہتا ہے ہم جو روزانہ اس کے سامنے فخر سے کہتے ہیں کہ اے اللہ ! ہم تجھ پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لائے اور اس کے لئے ہر قسم کی قربانیاں کرنے کے لئے تیار ہیں، اس کے مطابق اب خدا تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ ہم کس حد تک قربانیاں کرتے ہیں اور ہمارے دلوں میں کتنا ایمان ہے؟“ قادیان میں احرار کی اشتعال انگیز سرگرمیاں: - ( تاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ 430 تا 438) سلسلہ احمدیہ کا مقدس نظام چونکہ ایک واجب الاطاعت امام اور ایک فعال مرکز سے وابستہ ہے اس لئے اس وقت کے احرار اور حکومت دونوں نے جماعت احمدیہ کو پارہ پارہ کرنے کیلئے براہ راست قادیان ہی کو اپنی اشتعال انگیزیوں کی آماجگاہ بنا لیا اور سر توڑ کوشش شروع کر دیں کہ احمدیوں کے خلاف ایسی فضا پیدا کردی جائے کہ وہ صبر و عمل کا دامن چھوڑ کر قانون شکنی پر مجبور ہو جائیں اور بالآخر ملکی آئین کے ساتھ ایسا کھلا تصادم شروع ہو جائے کہ حکومت کے لئے پہلے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ پر اور پھر آپ رضی اللہ عنہ کے بعد قادیان اور اس سے باہر پورے صوبے میں پھیلے ہوئے دوسرے احمدیوں پر ہاتھ ڈالنا 424