مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 384
اس تحریک پر احباب نے فوری لبیک کہا۔چنانچہ ”دور الضعفا“ کے لیے حضرت نواب محمد علی خان صاحب مالیر کوٹلہ نے 22 “ مکانوں کے لیے قادیان میں ایک وسیع قطعہ زمین بہشتی مقبرہ کے قریب عطا فر مایا۔اصحاب احمد جلد دوم صفحہ 467) 66 اس تحریک کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے آگے بڑھاتے ہوئے کفالت یک صد یتامی“ اور “بوت الحمد سکیم کا منصوبہ جاری فرمایا جس کے ثمرات جاری و ساری ہیں۔چنانچہ ہمارے موجودہ امام حضرت خلیفۃ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس تحریک کے ضمن میں فرمایا: اللہ کے فضل سے جماعت میں یک صد یتامی کی خبر گیری کا بڑا اچھا انتظام موجود ہے۔مرکزی طور پر بھی انتظام جاری ہے۔گو اس کا نام یک صد یتامی کی تحریک ہے لیکن اس کے تحت سینکڑوں یتامی بالغ ہو کر پڑھائی مکمل کر کے کام پر جانے تک ان کو پوری طرح سنبھالا گیا۔اسی طرح لڑکیوں کی شادی تک کے اخرا جات پورے کئے جاتے رہے اور کئے جا رہے ہیں اور اللہ کے فضل سے جماعت اس میں دل کھول کر امداد کرتی ہے۔“ لگ تحریکات خلافت ثانیہ تحریک جدید: تحریک جدید کا آغاز روزنامه الفضل 19 نومبر 2004ء) تحریک جدید کے آغاز کا پس منظر بیان کرتے ہوئے سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی فرماتے ہیں:۔یہ تحریک ایسی تکلیف کے وقت شروع کی گئی تھی کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ دنیا کی ساری طاقتیں جماعت احمدیہ کو مٹانے کے لیے اکٹھی ہو گئی ہیں۔ایک طرف احرار نے اعلان کر دیا کہ انہوں نے جماعت احمدیہ کو مٹا ینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ اس وقت تک سانس نہ لیں گے جب تک مٹا نہ لیں۔دوسری طرف جو لوگ ہم سے ملنے جلنے والے تھے اور بظاہر ہم سے محبت کا اظہار کرتے تھے انہوں نے پوشیدہ بغض نکالنے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سینکڑوں اور ہزاروں روپوں سے ان کی امداد کرنی شروع کر دی اور تیسری طرف سارے ہندوستان نے ان کی پیٹھ ٹھونکی یہاں تک کہ ایک ہمارا وفد گورنر پنجاب سے ملنے کے لیے گیا تو اسے کہا گیا کہ تم لوگوں نے احرار کی اس تحریک کا اندازہ نہیں لگایا۔ہم نے محکمہ ڈاک سے پتہ لگوایا ہے، پندرہ سو روپیہ روزانہ ان کی آمدنی ہے۔تو اس وقت گورنمنٹ انگریزی نے بھی احرار کی فتنہ انگیزی سے متاثر ہو کر ہمارے خلاف ہتھیار اٹھا لئے اور یہاں کئی بڑے بڑے افسر بھیج کر اور احمدیوں کو رستے چلنے سے روک کر احرار کا جلسہ کرایا گیا۔“ تحریک جدید ایک الہامی تحریک (تقریر فرمودہ 27 دسمبر 1943ء) تحریک جدید کو تمام تر کامیابیوں کے حصول کا ذریعہ اور الہامی تحریک قرار دیتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ الثانی اللہ عنہ فرماتے ہیں: 384