مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 351 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 351

لاعلاج مریض رونہ صحت ہو نے لگا: حضور (حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جولائی 1986ء میں فرمایا: ایران سے ڈاکٹر فاطمۃ الزہراللھتی ہیں کہ میرا اکلوتا بیٹا دائیں ٹانگ کی کمزوری کی وجہ سے بیمار ہوا اور دن بدن حالت بگڑنے لگی یہاں تک کہ وہ لنگڑا کر چلنے لگا۔ماہر امراض کو کھایا گیا لیکن کوئی تشخیص نہ ہو سکی اور انہوں نے اس کی صحت کے متعلق مایوسی کا اظہار کیا۔وہ کہتی ہیں کہ مجھے اچانک دعا کا خیال آیا اور اس خیال کے ساتھ میں نے خود بھی دعا کی اور آپ کو دعا کے لئے خط لکھا۔اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ وہ مریض جسے ڈاکٹروں نے لاعلاج قرار دے دیا تھا اسی دن سے رُوبصحت ہونے لگا اور باوجود اس کے کہ ڈاکٹروں کو اس کی بیماری کی کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی اس لئے وہ علاج کرنے سے بھی معذور تھے اس دن سے دیکھتے دیکھتے اس کی حالت بغیر علاج کے بدلنے لگی اور اللہ کے فضل سے اب بوقت تحریر وہ بالکل صحیح ہے۔“ (ضمیمہ ماہنامہ خالد ربوہ جولائی 1987ء) فصلوں میں غیر معمولی برکت: و د مکرم مکرم منصور احمد صاحب لطیف آباد حیدر آباد سے تحریر کرتے ہیں کہ: میجر عبدالحمید شرما صاحب سابق نائب ناظم وقف جدید میرے بہنوئی مکرم چودھری محمود احمد صاحب آف نو کوٹ کے پاس تشریف لائے اور کہا کہ وقف جدید کی دو گھوڑیاں (جو بہت کمزور تھیں) آپ نے اپنے پاس رکھ لیں۔برادرم چوہدری صاحب نے نہ صرف گھوڑیاں رکھنے کی حامی بھری بلکہ ملازمین کو ہدایت کی کہ ان کو کھلا فصلوں میں چھوڑ دیا جائے اس پر مزارعین نے اعتراض کیا کہ آپ اپنے حصے کی تو قربانی دے رہے ہیں ہمارا جو نقصان ہوگا اس کا کون ذمہ دار ہے۔آپ نے جواباً کہا کہ جن فصلوں میں گھوڑیاں نہیں چھوڑیں گئیں میں ان کی پیداوار کے لحاظ سے آپ کا حصہ دوں گا۔اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ جن زمینوں میں گھوڑیاں چھوڑی گئیں ان کی فی ایکڑ پیداوار 50 من رہی اور جن میں نہیں چھوڑی گئیں ان کی اوسط پیداوار 45 من فی ایکڑ رہی۔اس دوران گھوڑیاں بہت صحت مند ہو گئیں۔میجر عبدالحمید شرما صاحب دوبارہ تشریف لائے اور گھوڑیاں دیکھ کر بہت خوش ہوئے انہوں نے یہ خوش کن اطلاع حضور پر نور کی خدمت میں بھجوائی تو حضور انور کی طرف سے جواب موصول ہوا کہ جن کھیتوں سے ان کھوڑیوں نے گھاس کھائی ہے اللہ کرے وہ کھیت سونا اگلیں۔برادرم چوہدری صاحب بتاتے ہیں کہ اس کے بعد میری فصلوں میں غیر معمولی برکت عطا ہوئی اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔" یہ قبولیت کا نشان تھا: روزنامه الفضل سیدنا طاہر نمبر 27 دسمبر 2003ء) اکٹر سید برکات احمد صاحب انڈین فارن سروس میں رہے، کئی کتب لکھیں، حضور انور (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی) کی کتاب ”مذہب کے نام پر خون کا انگریزی ترجمہ کیا۔آپ مثانہ کے کینسر سے بیمار تھے جس کا امریکا میں آٹھ گھنٹے کا ناکام آپریشن ہوا اور ڈاکٹروں نے چار سے چھ ہفتے کی زندگی بتائی۔حضور انور 351