مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 350
کرے۔“ خدا تعالیٰ نے معجزانہ طور پر ام کو صحت عطا فرما دی اور وہ اڑتالیس گھنٹے بعد یعنی حادثہ کے تیسرے روز ہسپتال سے فارغ ہو کر گھر پہنچ گئیں۔الحمد لله علی ذلک۔“ 66 (ماہنامہ انصار اللہ اپریل 1984) حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے قبولیت دعا کے واقعات آنکھوں کا نو ر واپس آگیا: حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی نے خطبہ جمعہ فرمودہ 20 جولائی 1986ء کو قبولیت دعا کے نتیجے میں ایک دوست کی آنکھوں کی معجزانہ شفا یابی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ڈھاکہ کے ایک احمدی دوست اپنے ایک دوست کے متعلق جو احمدی نہیں لکھتے ہیں کہ میں ان کو سلسلے کا لٹریچر بھی دیتا رہا اور ٹیسٹس بھی سناتا رہا جس سے رفتہ رفتہ ان کا دل بدلنے لگا۔جماعت کے لٹریچر سے ان کو وابستگی پیدا ہو گئی اور وہ شوق سے لٹریچر مانگ کر پڑھنے لگے۔اس دوران ان کی آنکھوں کو ایسی بیماری لاحق ہو گئی کہ ڈاکٹروں نے یہ کہہ دیا کہ تمہاری آنکھوں کا نور جاتا رہے گا اور جہاں تک دنیاوی علم کا تعلق ہے ہم کوئی ذریعہ نہیں پاتے کہ تمہاری آنکھوں کی بصارت کو بچا سکیں۔اس کا حال جب اس کے غیر احمدی دوستوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے طعن و تشنیع شروع کر دی اور یہ کہنے لگے اور پڑھو احمدیت کی کتابیں۔یہ احمدیت کی کتابیں پڑھ کر تمہاری آنکھوں میں جو جہنم داخل ہو رہی ہے اس نے تمہارے نور کو خاکستر کر دیا ہے۔یہ اس کی جو تمہیں مل رہی ہے۔انہوں نے اس کا ذکر بڑی بے قراری سے اپنے احمدی دوست سے کیا۔انہوں نے کہا تم بالکل مطمئن رہو تم بھی دعا کرو میں بھی دعا کرتا ہوں اور اپنے امام کو بھی دعا کے لئے لکھتا ہوں اور پھر دیکھو اللہ کس طرح تم پر فضل نازل فرماتا ہے۔چنانچہ کہتے ہیں اس واقعہ کے بعد چند دن کے اندر اندر ان کی آنکھوں کی کایا پلٹنی شروع ہوئی اور دیکھتے دیکھتے سب نور واپس آ گیا۔جب دوسری مرتبہ وہ ڈاکٹر کو دکھانے گئے تو ڈاکٹر نے کہ اس خطرناک بیماری کا کوئی بھی نشان میں باقی نہیں دیکھتا۔“۔ہے (ضمیمہ ماہنامہ خالد ربوہ جولائی 1987ء) گلے کی تکلیف دور ہو گئی: مکرم پر منصور احمد صاحب لطیف آباد حیدر آباد تحریر کرتے ہیں کہ تقریباً بیس سال پہلے میرے گلے میں تکلیف ہوئی جو کئی مہینوں پر محیط ہو گئی میں خود بھی ہومیو پیتھی کا مطالعہ کرتا ہوں اس کی روشنی میں علامات کے لحاظ سے Lycopoqium200 دوا بنتی تھی یہ دوا استعمال کر کے دیکھ لی فائدہ نہیں ہوا۔اس دوران حضور پرنور حضرت خلیفة امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالٰی کی خدمت میں دعا کے لئے لکھا۔حضور پرنور (حضرت خلیفۃ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ) نے بھی یہی روا اسی طاقت میں لکھی۔پہلے جو دوا استعمال کی تھی اس میں سے آدھی بچی ہوئی تھی۔حضور انور حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کا خط آنے پر وہی دوائی استعمال کی اور صحت یاب ہو گیا۔“ (روز نامه الفضل سیدنا طاہر نمبر 27 دسمبر 2003ء۔صفحہ 53) 350