مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 326
خود انہی کے لٹ گئے حسن و شباب زندگی اس میں الہامی کیفیت تو نہیں ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان باتوں میں کچھ اشارے ضرور ہیں اور یہ ایک پیغام کا رنگ رکھتے ہیں۔میں یہی سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دعائیہ رنگ میں اس طرف متوجہ فرمایا ہے کہ ساری جماعت اس عرصہ میں یہ دعا بھی کرے کہ اب کی کتاب زندگی جس نے دنیا کو حقیقت کا دھوکہ دیا ہوا ہے وہ پھٹ جائے اور دنیا ان کی حقیقت کو دیکھ لے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ جماعت کو ان کی آنکھوں کے سامنے بیش از پیش ترقیات عطا کرتا چلا جائے۔“ تو حضرت ملک سیف الرحمن صاحب کی وفات کے متعلق رویا: حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: روزنامه الفضل ربوہ 23 مئی 2005ء صفحہ (12) ”جب حضرت ملک سیف الرحمن صاحب کا وصال ہوا ہے تو جس دن اس کی اطلاع ملی اس سے پہلی رات میں نے یہ رویا دیکھی کہ اقبال کی ایک مشہور غزل کے دو اشعار میں پڑھ رہا ہوں اور خاص اس میں درد کی ایک کیفیت ہے اور اقبال کی یہ وہ غزل ہے جو بچپن میں کالج کے زمانے میں مجھے بہت پسند تھی چونکہ مد سے پڑھی نہیں اس لئے خواب میں کوشش کر کے یاد کر کے وہ شعر پڑھتا ہوں اور پھر آخر یا د آ جاتے ہیں اور وہ رواں ہو جاتے ہیں اور وہ شعر یہ تھے کہ۔تھا جنہیں ذوق تماشا وہ تو رخصت ہو گئے لے کے اب تو وعده دیدار عام آیا تو کیا آخر شب دید کے قابل تھی بسمل کی نڈر صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا مدت بہت ہی درد ناک اشعار ہیں اور جب آنکھ کھلی تو میرے دل پر بہت ہی اس بات کا گہرا اثر تھا اور غم کی کیفیت تھی کہ معلوم ہوتا ہے کہ سلسلہ کے کوئی ایسے بزرگ جن کا خدا کے نزدیک ایک مرتبہ ہے رخصت ہونے والے ہیں جو انتظاری کی راہ دیکھتے دیکھتے میرے سے پہلے پہلے وصال پا جائیں گے دوسرے دن صبح ملک سیف الرحمن صاحب کے وصال کی اطلاع ملی۔“ تین مبشر رویا: دو حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: (ماہنامہ خالد حضرت سیف الرحمن صاحب صفحہ نمبر 98،97 ستمبر اکتوبر 1995ء) پرسوں رات اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے تین مبشر رویا دکھائے جو جماعت کے حق میں بہت ہی مبشر اور مبارک ہیں۔مختصر نظارے تھے لیکن یکے بعد دیگرے ایک ہی رات میں یہ تین نظارے دیکھے اور اس مضمون کو زیادہ قوت دینے کے لئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص طور پر جماعت کے لئے خوشخبری ہے یہ ایک عجیب 326