مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 325
وو الوداعی معانقہ: حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ 8 مئی1987ء میں فرمایا: چچا جان چند روز پہلے میں نے ایک عجیب خواب دیکھا۔خواب میں دیکھا کہ حضرت بو زینب چچی جان حضرت چھوٹے کی بیگم صاحبہ مرحومہ جو صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی والدہ صاحبہ تھیں وہ تشریف لائی ہیں، ان کو میں نے پہلے تو کبھی خواب میں نہیں دیکھا تھا شائد ایک مرتبہ دیکھا ہو، وہ آئی ہیں اور قد بھی بڑا ہے جس حالت میں جسم تھا اس کے مقابل پر زیادہ پر شوکت نظر آئی ہیں، آپ آ کے مجھے گلے لگاتی ہیں لیکن گلے لگ کر پیچھے ہٹ جاتی ہیں اور بغیر الفاظ کے مجھ تک ان کا یہ مضمون پہنچتا ہے کہ میں خود ملنے نہیں آئی بلکہ ملانے آئی ہوں۔اس کے معاً بعد ایک خیمہ سے حضرت پھوپھی جان نکلتی ہیں گویا کہ وہ ان کو ملانے کی خاطر تشریف لائی تھیں۔خواب میں ایسا منظر ہے کہ اور نہ کوئی بات ہوئی ہے نہ کو ئی اور نظارہ ہے دائیں بائیں صرف خیمہ سے آپ کا نکلنا ہے اور بہت ہی خوش لباس ہیں اچھی صحت ہے آپ جب گلے لگتی ہیں اور اتنی دیر تک گلے لگائے رکھتی ہیں کہ اس خواب میں حقیقت کا احساس ہونے لگتا ہے یہاں تک کہ جب میری آنکھ کھلی تو لذت سے میرا سینہ بھرا ہوا تھا اور بالکل یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ابھی مل کے گئی ہیں لیکن اس میں ایک غم کے پہلو کی طرف توجہ گئی کہ زینب نام میں ایک غم کا پہلو پایا جاتا ہے لیکن اس وقت یہ خیال نہیں آیا کہ یہ الوداعی معانقہ ہے۔میرا دل اس طرف گیا کہ جماعت پر کوئی اور ابتلا آنے والا ہے ایک غم کی خبر ہو گی اس سے فکر پیدا ہو گئی لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جماعت کو حفاظت میں رکھے گا چنانچہ ایک ملک کے امیر صاحب کو میں نے اسی تعبیر کے ساتھ خط میں یہ خواب لکھی کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے ملک میں یہ واقع ہونے والا ہے لیکن اطمینان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ حفاظت فرمائے گا لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ واقعہ یہ اسی خواہش کا جواب تھا جو میرے دل میں بھی بہت شدید تھی اور حضرت پھوپھی جان کے دل میں بھی تھی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے وصال سے پہلے ملادے اور معانقہ ہو جائے اور یہ معانقہ اتنا حقیقی تھا کہ اتنا گہرا اثر اور لذت تھی کہ خواب کے اندر یہ احساس نہیں ہوا کہ خواب تھی اور چلی گئی بلکہ یوں معلوم ہو ا جیسے چیز کوئی واقعہ کے بعد پیچھے رہ جاتی ہے۔میں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ نے اس رنگ میں ہماری ملاقات کا انتظام فرما دیا اور یہ الوداعی معانقہ تھا جو مجھے دکھایا گیا۔“ دو اشعار (روز نامه الفضل ربوہ 23 مئی 2005ء ص 12) ان اشعار کے بارے میں حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ 3 فروری1989ء میں فرمایا: چند دن پہلے صبح جب میں نماز کے لئے اٹھا تو میرے منہ پر حضرت مصلح موعود کے یہ شعر جاری تھے کہ: پڑھ چکے احرار بس اپنی کتاب زندگی ہو گیا پھٹ کر ہوا ان کا حباب زندگی لوٹنے نکلے تھے جو امن و سکون بے کساں 325