مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 304 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 304

مؤرخہ 10 مارچ 1912 ء نماز مغرب کے بعد حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ نے درس کے دوران حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ: ” مجھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جتنے لوگ اس وقت تیری مجلس میں بیٹھے ہیں اگر تو ان کے لیے دعا کرے گا تو یہ سب جنت میں جائیں گے۔“ چنانچہ اس وقت حضرت خلیفۃ اصبح الاول رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: "کوئی دوست میری مجلس سے نہ اٹھیں میں ابھی دعا کرتا ہوں۔“ 1913ء کا پر رونق جلسہ: (حیات نور صفحه 552,553 ) جلسہ سالانہ 1913ء کا پر رونق نظارہ دیکھ کر جلسہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل پر شکریہ ادا کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے ایک نوٹ لکھا جس میں اپنی اس رویا کا ذکر کیا: اس جلسہ نے ان لوگوں کے خیالات کو بھی باطل کر دیا جو کہتے تھے کہ نورالدین گھوڑے سے گر گیا ہے جب ایک دفعہ خلافت کے خلاف شور ہوا تھا تو مجھے اللہ تعالیٰ نے رویا میں دکھایا تھا کہ میں ایک گھوڑے پر سوار ہوں اور ایسی جگہ پر جا رہا ہوں جہاں بالکل گھاس پھونس نہیں ہے اور خشک زمین ہے پھر میں نے گھوڑے کو دوڑانا شروع کر دیا اور گھوڑا ایسا تیز ہو گیا کہ ہاتھوں سے نکلا جا رہا تھا مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے میری رانیں نہ ہلیں اور میں نہایت مضبوطی سے گھوڑے پر بیٹھا رہا۔دور جا کر گھوڑا ایک سبزہ زار میدان میں داخل ہو گیا جس میں قریباً نصف نصف گز سبزہ اُگا ہوا تھا، اس میدان میں جہاں تک نظر جاتی تھی سبزہ ہی سبزہ نظر آتا تھا۔گھوڑے نے تیزی کے ساتھ اس میدان میں بھی دوڑنا شروع کر دیا۔جب میں درمیان میں پہنچا تو میری آنکھ کھل گئی۔میں نے اس خواب سے سمجھا کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ یہ خلافت کے گھوڑے سے گر جائے گا جھوٹے ہیں اور اللہ تعالیٰ مجھے اس پر قائم رکھے گا بلکہ کامیابی عطا فرمائے گا۔سو خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے میری اس خواب کو بھی پورا کیا اور اس سال کے جلسہ نے اس کی صداقت بھی ظاہر کردی۔“ (اخبار الفضل قادیان 7 جنوری 1914ء صفحہ 14) ولادت صاحبزادہ محمد عبداللہ صاحب 18 نومبر 1913ء کو اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ کو پانچواں فرزند عطا فرمایا جس کا نام حضرت خلیفۃ لمسیح الاول رضی اللہ عنہ نے عبداللہ رکھا۔یہ بیٹا ایک نشان تھا کیونکہ جن دنوں حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے شدید بیمار تھے اور ڈاکٹر حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ کی زندگی سے مایوس تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک لڑکے کی بشارت دی تھی۔چنانچہ اس وقت حضرت خلیفۃ ابیح الاول رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے دیکھا ہے کہ میری جیب میں کسی نے ایک روپیہ ڈال دیا ہے۔اس کی تفہیم یہ ہے کہ ایک لڑکا ہوگا۔اسی طرح ایک دوسرے موقع پر حضرت خلیفۃ ابیع الاول رضی اللہ عنہ نے فرمایا لمسیح 304