مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 271 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 271

وعدہ فرمایا تھا اب آپ حضور علیہ السلام کے خلیفہ اول ہیں آپ اس وعدہ کو پورا فرمائیں۔حضور رضی اللہ عنہ نے باوجود بیماری کے جناب شیخ صاحب موصوف کی اس عرضداشت کو منظور فرمالیا اور 15 جون 1912ء کی صبح کو عازم لاہور ہوئے۔قافلہ کے ممبران یہ تھے: حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب جناب مولوی صدر الدین صاحب حضرت خلیفہ اسیح کے اہل بیت اور صاحبزادگان اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب۔بعض خدا م جو بٹالہ ریلوے اسٹیشن پر بروقت نہیں پہنچ سکے تھے وہ دوسری گاڑی میں لاہور پہنچے ان میں حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب بھی تھے۔دس بجے کے قریب حضور رضی اللہ عنہ لاہور پہنچے۔اسٹیشن پر ایک بڑی جماعت حضور رضی اللہ عنہ کے استقبال کے لئے موجود تھی۔لاہور میں احباب کے قیام کے لئے احمد یہ بلڈنگز کا مقام تجویز ہو چکا تھا۔جناب شیخ رحمت اللہ صاحب نے مہمانوں کے واسطے کھانے کا انتظام بھی اسی جگہ کیا ہوا تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ کا قیام جناب ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کی کوٹھی پر تھا جو اس احاطہ کے اندر تھی۔حضور رضی اللہ عنہ کے لاہور تشریف لے جانے کا اعلان چونکہ دو ہفتے قبل اخبار میں ہو چکا تھا اس لئے باہر سے بھی کافی تعداد میں احباب جمع ہو گئے تھے۔لاہور پہنچ کر سب سے پہلے حضور رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے ، دو نفل نماز ادا کی اور بانیان مسجد اور ان کی اولاد در اولاد کے واسطے بہت دعائیں کیں۔اس کے بعد اسی دن شاہ چھ بجے سب دوست جناب یح رحمت جناب شیخ رحمت اللہ صاحب کی زمین پر جمع ہوئے اور حشت بنیاد رکھی گئی۔اینٹ رکھنے سے قبل حضور رضی اللہ عنہ نے ایک مختصر سی تقریر فرمائی جسے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب نے قلم بند کر لیا تھا۔اس تقریر کا خلاصہ درج ذیل ہے۔فرمایا: ”میرے آقا، میرے محسن (حضرت مسیح موعود علیہ السلام) نے شیخ صاحب (شیخ رحمت اللہ صاحب) سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کی عمارت کی بنیاد اپنے ہاتھ سے رکھیں گے۔اللہ تعالیٰ کا منشا ایسا ہی ہوا کہ آپ علیہ السلام کے وعدہ کی تعمیل آپ علیہ السلام کا ایک خادم کرے۔شیخ صاحب نے لکھا کہ تم آؤ! میں بیمار ہوں اور بعض اعضا بات میں درد کی وجہ سے تکلیف ہوتی ہے مگر میرے دل میں جوش ہے، اپنے پیارے کے منہ سے نکلی ہوئی پوری کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔اس عمارت کے ارد گرد بھی تازہ عمارتیں بنی ہوئی ہیں اور بن رہی ہیں مگر اس عمارت کے ساتھ ہمارا ایک خاص تعلق ہے اور یہ تعلق شخصی بھی ہے اور قومی بھی۔شخصی تو یہ کہ حضرت صاحب علیہ السلام نے وعدہ فرمایا تھا کہ اس عمارت کی بنیاد رکھیں گے اور حضرت صاحب کا ایک خادم اس وعدہ کو پورا کر دے۔قومی تعلق یہ ہے کہ اس عمارت میں ہماری قوم کا بھی ایک حصہ ہے اس لئے قوم کو چاہئے کہ دردِ دل سے دعا کرے کہ انجام بخیر ہو اور اس مکان میں جو بسنے والے ہوں، جو اس کے مہتمم ہوں وہ راستباز ہوں اور نیکی سے پیار کریں۔“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے سفر مبارک: (حیات نور۔صفحہ 558-557) 271 * 1943* 1918 سفر ڈلہوزی (1