مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 270
حدیث مبارکہ : عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ إِلذَنْ لِى فِى الرِّيَاحَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ سِيَاحَةَ أُمَّتِي الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ۔(ابو دائود كتاب الجهاد باب فى القوم يسافرون لوفرون) ترجمہ: حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے سیر و سیاحت کی اجازت دیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی سیر و سیاحت اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد ہے۔ابتدائیہ: دنیا میں ہر انسان کو کسی نہ کسی مقصد کے لئے سفر کرنا پڑتا ہے۔مثلاً حصول علم کے لئے سفر، تلاش معاش کے لیے یا پھر عزیز و اقارب سے ملنے کی غرض سے سفر اور رضائے باری تعالیٰ یا احیائے کلمۃ اللہ کے لئے سفر۔الغرض انسان کو درپیش مختلف سفروں کے مختلف اغراض و مقاصد ہیں۔رضائے الہی اور احیائے کلمتہ اللہ کی غرض سے اختیار کئے جانے والے سفر میں خدا تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کی تائید و نصرت شامل ہوتی ہے۔اس کے علاوہ دیگر نیک مقاصد کی خاطر اختیار کئے جانے والے سفر میں انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے نیک اجر ملتا ہے۔مثلاً طالب علم جب علم کی خاطر کوئی سفر کرتا ہے تو خدا تعالیٰ کے فرشتے اس پر اپنے پروں کا سایہ کئے رہتے ہیں خدا کی خاطر کئے جانے والے سفر کے ہر قدم پر ثواب لکھا جاتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی اپنے بیوی بچوں کی ضروریات پوری کرنے کی خاطر سفر کرتا ہے تو اس کے سفر کے ہر قدم پر اس کے لئے ثواب لکھ دیا جاتا ہے خص کیونکہ یہ بھی ایک جہاد ہے۔دنیا میں انبیاء کا ہر سفر خالصتاً اللہ کی خاطر ہوتا ہے۔ان میں تبلیغی سفر، سفر ہجرت اور جہاد کے سفر سب شامل ہیں۔سفر ہر زمانے کے لحاظ سے اپنی الگ نوعیت رکھتے ہیں: کہیں پیدل، کہیں جانوروں پر، کہیں خشکی پر، کہیں دریاؤں اور سمندروں میں سفر درپیش ہوتے ہیں اور کہیں فضا میں۔الغرض ہر سفر کے مختلف ذرائع ہیں جو انسان ضرورت کے وقت اختیار کرتا ہے۔مسیح موعود کے لفظ میں یہ پیشگوئی شامل ہے کہ آنے والا مسیح بہت زیادہ سفر اختیار کرے گا اور یہ بھی کہ مسیح موعود کی اتباع میں اس کے خلفا بھی ضرورتِ دینیہ کے لئے سفر کے اس تسلسل کو جاری رکھیں گے۔چنانچہ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ پیش گوئی خلفا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعے کس طرح پوری ہوئی: حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے مبارک سفر: 1۔سفر لاہور 15 جون 1912ء: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جناب شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر لاہور سے ان کی درخواست پر وعدہ فرمایا تھا کہ حضور علیہ السلام لاہور تشریف لے جا کر ان کے مکان کا سنگ بنیاد رکھیں گے مگر حضور علیہ السلام کا چونکہ وصال ہو چکا تھا اس لئے جناب شیخ صاحب موصوف قادیان میں حضرت خلیفۃ امسیح الاول رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میرے ساتھ مکان کی بنیاد رکھنے کا 270