مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 232
(الفضل 24 اپریل 2003 صفحہ 2) حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے پہلی بیعت عام سے قبل مختصر خطاب فرمایا جس کے الفاظ یہ ہیں: پر احباب جماعت سے صرف ایک درخواست ہے کہ آج کل دعاؤں پر زور دیں، دعاؤں پر زور دیں، دعاؤں زور دیں۔بہت دعائیں کریں، بہت دعائیں کریں، بہت دعائیں کریں۔اللہ تعالیٰ اپنی تائید و نصرت فرمائے اور احمدیت کا یہ قافلہ اپنی ترقیات کی طرف رواں دواں رہے۔“ (الفضل 24 اپریل 2003ء،صفحہ 2) تجدید عہد : اس موقع پر ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ اے جانے والے تو نے جس تیزی کے ساتھ دین کو اکناف عالم میں غالب کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو آگے بڑھایا ہم ہمیشہ اس مشن کو آگے بڑھانے کیلئے ہر قسم کی قربانی دیتے رہیں گے۔ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہمارے جانے والے محبوب قائد نے اس کا حق ادا کر دیا۔اللہ تعالیٰ کی آپ رحمہ اللہ تعالیٰ پر بے شمار برکتیں نازل ہوں۔ہم آنے والے عظیم قائد سے خدا کو حاضر ناصر جان کر یہ عہد کرتے ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے امن اور سلامتی کے پیغام کو دنیا میں پہنچانے کے لئے اور خلافت احمدیہ کے قائم رکھنے کی خاطر ہر قربانی کے لئے تیار رہیں گے اور اپنے امام کی مدد ہمیشہ دعاؤں سے کرتے رہیں گے۔انشاء اللہ تحریکات خلافت خامسه : حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مرزا مسرور احمد صاحب مؤرخہ 22 اپریل 2003ء کو خلافت پر متمکن ہوئے۔آپ ایدہ اللہ تعالیٰ کے دور کی بابرکت تحریکات کا درج ذیل ہیں: -1 دعوت الی اللہ کے لئے عارضی وقف کی تحریک حضرت خلیفة لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ فرمود 4 جون 2004ء میں فرمایا: ”دنیا میں ہر احمدی اپنے لئے فرض کر لے کہ اس نے سال میں کم از کم ایک یا دو دفعہ ایک یا دو ہفتے تک اس کام کے لئے وقف کرنا ہے۔“ -2- زیادہ سے زیادہ وصایا کرنے کی تحریک: حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے یکم اگست 2004 ء جلسہ سالانہ برطانیہ سے موقع پر فرمایا: افضل 31 اگست 2004 ء چونکہ 2005ء میں نظام وصیت کے سو سال پورے ہو جائیں گے اس لئے کم از کم پچاس ہزار وصایا ہو جائیں۔اس طرح 2008 ء تک خلافت جوبلی کے اظہار خوشنودی کے طور پر لازمی چندہ دہندگان میں سے کم از کم پچاس فیصد موصی ہو جائیں۔“ (مشعل راہ جلد پنجم حصہ دوم صفحه 79،78) 232